BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 November, 2005, 12:59 GMT 17:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی

تماشائی
ٹیسٹ کرکٹ میں شائقین کی دلچسپی نے بعض لوگوں کو حیران کر دیا۔
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کے دوران تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد میچ دیکھنے سٹیڈیم آئی۔

پاکستان میں اگرچہ لوگوں میں کرکٹ کا شوق بے پناہ ہے لیکن کافی عرصے سے ٹیسٹ میچز میں سٹیڈیم میں بہت کم تعداد میں تماشائی آتے تھے حتیٰ کہ سنہ 2004 میں پاکستان میں کافی تعطل کے بعد ہونے والی پاک بھارت کرکٹ سیریز کے ایک روزہ میچز میں تو تماشائی جوق در جوق آئے لیکن ٹیسٹ میچوں کے دوران سٹیڈیم ویران نظر آتے تھے۔

بھلا ہو انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان جاری ٹیسٹ سیریز کا کہ اس میں ٹیسٹ میچز کے دوران بھی سٹیڈیمز میں رونقیں بحال ہوئیں۔

کافی عرصے کے بعد شائقین کرکٹ کی ایک بہت بڑی تعداد سٹیڈیم میں میچ دیکھنے آ رہی ہے۔

تقریباّ پچیس ہزار کی گنجائش والے ملتان سٹیڈیم پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران مکمل بھرا رہا۔دوسرے ٹیسٹ میچ کے میزبان سٹیڈیم اقبال سٹیڈیم فیصل آباد میں سترہ ہزار تماشائی میچ سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

فیصل آباد کا سٹیڈیم تو ٹیسٹ میچ کے پانچوں دن بھرا رہا بلکہ سٹیڈیم کے باہر بھی کرکٹ کے ہزاروں دلدادہ منڈلاتے رہے کہ اندر تک رسائی ممکن ہو سکے۔

قذافی سٹیڈیم لاہور کافی بڑا سٹیڈیم ہے جسکی گنجائش تیس ہزار سے کچھ زائد ہی ہے اگرچہ ملتان اور فیصل آباد کی طرح یہ مکمل طور پر تو نہیں بھرا مگر پھر بھی میچ کے پہلے دن ہی دس سے بارہ ہزار تماشائیوں کی موجودگی یہ احساس دلاتی تھی کہ لوگ ٹیسٹ میچز کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

تماشائیوں میں کالجوں کی طالبات بھی شامل ہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار خان ٹیسٹ میچز میں تماشائیوں کی سٹیڈیم میں آمد پر بہت خوش تھے۔

وہ خوش کیوں نہ ہوں، تماشائیوں کو واپس لانے میں ان کا بھی کافی ہاتھ ہے کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے تمام سٹیڈیم میں ٹیسٹ میچز کے لیے ستر فیصد فری ٹکٹیں بانٹی ہیں۔کالجز اور سکولوں کو فری ٹکٹ بھیجی گئیں جس کی وجہ سے خصوصا لڑکیاں اپنے اپنےکالج کی انتظامیہ کے اہلکاروں کے ہمراہ میچ دیکھنے آئیں۔

پی سی بی کے چیئر مین کی خوشی کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں پی سی بی کی ساکھ کو تقویت ملی ہے کیونکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل بھی ٹیسٹ میچز میں تماشائیوں کی بدستور گھٹتی ہوئی دلچسپی سے پریشان ہے۔

ایک ادھیڑ عمر کے تماشائی افضل چیمہ کے بقول وہ اپنے طالب علمی کے زمانے میں ٹیسٹ میچ دیکھنے آتے تھے اس وقت صرف ٹیسٹ کرکٹ ہی ہوتی تھی لیکن ایک روزہ میچز کی وجہ سے لوگوں کی دلچسپی ٹیسٹ میچز میں کم ہو گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کے کھیل کا اصل حسن تو ٹیسٹ کرکٹ میں ہی ہے۔

موجودہ ٹیسٹ سیریز میں بھی تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد نظر آئی

افضل چیمہ کا کہنا تھا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ دیکھ کر لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

ایک بینک افسر اخلاق الحسن کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں کھلاڑی کا اصل ٹیلنٹ سامنے آتا ہے اور میڈیا کی بدولت نئی نسل کو بھی پتہ چل رہا ہے کہ اگر انہیں اپنے پسندیدہ کھلاڑی کو صحیح معنوں میں کھیلتے ہوئے دیکھنا ہے تو وہ ٹیسٹ کرکٹ میں ہی ممکن ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگ اب ٹیسٹ میچز میں بھی دلچسپی لینے لگے ہیں۔

ایک خاتون تماشائی تنزیلہ کا کہنا ہے کا عام طور پر وہ اپنے بچوں کو تفریح کے لیے باغوں اور پارک وغیرہ میں لے کر جاتی ہیں لیکن ان کے بچے بھی دوسرے پاکستانی بچوں کی طرح کرکٹ کے شوقین ہیں ’اس لیے ہمیں یہ موقع ملا اور مفت ٹکٹیں ملیں تو میں اپنے بچوں کی خوشی کے لیے میچ دیکھنے آگئی‘۔

تماشائیوں میں ہر عمر اور طبقے کے افراد شامل ہیں

تنزیلہ کا کہنا ہے کہ وہ بھی یہاں آ کر بور نہیں ہوئیں کیونکہ کراؤڈ میں بیٹھ کر میچ دیکھنے کا مزہ آ رہا ہے۔ایک تماشائی اکرام صاحب کی رائے تھی کہ ملتان ٹیسٹ میں پاکستان کی فتح اور فیصل آباد میں کھیل کے اتار چڑھاؤ نے لاہور ٹیسٹ میچ میں تماشائیوں کی دلچسی بڑھا دی ہے۔

رائے آصف کا کہنا تھا کہ وہ تبلیغی ہیں اور اپنے مذہبی رجہان کے سبب انہیں کرکٹ سے کوئی دلچسپی نہیں لیکن وہ اپنی بیوی کی خوشنودی کے لیے سٹیڈیم آئے ہیں۔

رائے آصف کی بیوی معظمہ کہ کہنا تھا کہ وہ بچپن سے ہی کرکٹ کی بے حد شوقین ہیں وہ اوکاڑہ شہر میں رہتی ہیں اور لاہور کسی سلسلے میں آئی ہوئی تھیں اور موقع غنیمت جانا اور کرکٹ دیکھنے کے اپنے شوق کی تکمیل کے لیے سٹیڈیم میں آ گئیں۔

ایک طالب علم طاہر اسلام نے کہا کہ انہیں کرکٹ پسند ہے چاہے وہ ٹیسٹ کرکٹ ہو یا ایک روزہ۔اس میچ کو دیکھنے کے لیے طاہر اسلام کو مفت ٹکٹ ملی بھلا وہ یہ موقع کیوں ہاتھ سے گنواتے۔

ایک حقیقت یہ بھی کہ پاکستانی عوام کو اگر کوئی تفریح مفت میں حاصل ہو تو وہ اس سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ دوران ہفتہ بھی لوگ میچ دیکھنے آئے۔

بہرحال وجہ کچھ بھی ہو ٹیسٹ میچز کی رونقیں کافی عرصے بعد بحال ہو رہی ہیں اور یا کرکٹ کے کھیل اور کھلاڑیوں کے لیے بھی خوش آئند بات ہے۔

66کرکٹ اور خواتین
سٹیڈیم کے ہجوم سے ڈر لگتا ہے مگر شوق۔۔۔۔
اسی بارے میں
آج کا کھلاڑی، شعیب ملک
29 November, 2005 | کھیل
یونس خان کے بعد کون؟
27 November, 2005 | کھیل
سٹراس کی برطانیہ واپسی
25 November, 2005 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد