BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 November, 2005, 10:13 GMT 15:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سٹیڈیم میں خواتین کےلیے انکلوژر

خواتین شائقین
میچ دیکھنے کے لیے آنے والی خواتین شائقین
سترہ ہزار کی گنجائش والے اقبال سٹیڈیم میں ہونے والے پاک انگلینڈ سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ میں تماشائیوں کی تعداد کافی زیادہ رہی جبکہ عام طور پر پاکستان میں ٹیسٹ میچوں میں بہت کم لوگ سٹیڈیم میں نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز میں کافی ٹکٹیں عام لوگوں کو مفت دیں۔

گو کہ اس ٹیسٹ میچ میں ہزاروں تماشائی موجود تھے لیکن ان میں خواتین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں تھی۔ پیلی کرسیوں والا ایک انکلوژر ایسا تھا کہ جس کے ایک جانب کوئی پچیس تیس کے لگ بھگ خواتین بیٹھی تھیں۔

ان میں سے کچھ تو ایسی تھیں جنہیں اپنے بچوں کے کرکٹ میچ دیکھنے کے شوق کی تکمیل کے لیے آنا پڑا تاہم کچھ ایسی بھی تھیں جو کہ کرکٹ کے کھیل سے اچھی خاصی رغبت رکھتی تھیں۔

کچھ لڑکیاں ایسی بھی تھیں کہ جنہوں نے برملہ اظہار کیا کہ وہ اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو دیکھنے آئی ہیں اور سب سے پسندیدہ کھلاڑی ہیں شاہد آفریدی۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ شاہد آفریدی سے ملیں اور اس سے بات کریں۔

پاکستان میں قریب ہر مرد و زن کرکٹ کا شیدائی ہے تو سٹیڈیم میں خواتین کی تعداد اتنی کم کیوں؟

لڑکے آوازیں کسنے سے باز نہیں آتے
 ابھی ہمارے شہر کا ماحول ایسا نہیں کہ ہم آزادانہ گھوم پھر سکیں اور خاص طور پر ایسی جگہ جہاں بہت سے لڑکے ہوں وہاں آنا تو بہت مشکل ہے کیونکہ یہ لڑکے آوازیں کسنے سے باز نہیں آتے۔
رباب

میچ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے صائمہ نے کہا کہ ’ہمارا بھی دل چاہتا ہے کہ ہم سٹیڈیم میں آ کر میچ دیکھیں میں اور میری سہیلیاں تین دن سے اسی کوشش میں تھیں کہ سٹیڈیم جائیں لیکن ہجوم سے ڈر لگتا تھا مگر آج ہمارے شوق نے ہمت پیدا کر ہی دی۔‘

رباب کا کہنا تھا: ’ابھی ہمارے شہر کا ماحول ایسا نہیں کہ ہم آزادانہ گھوم پھر سکیں اور خاص طور پر ایسی جگہ جہاں بہت سے لڑکے ہوں وہاں آنا تو بہت مشکل ہے کیونکہ یہ لڑکے آوازیں کسنے سے باز نہیں آتے۔‘

اسمارہ کا کہنا ہے کہ خواتین کے الگ انکلوژر کا نہ ہونا بھی خواتین کے کم آنے کی ایک بڑی وجہ ہے، اب اس انکلوژر میں ایک طرف ہم ہیں تو ایک طرف لڑکے بیٹھے ہیں جو کبھی کبھی ایسی آوازیں کستے ہیں کہ بہت غصہ آتا ہے۔‘

شاہد آفریدی کا بینر لیے ہوئے خواتین شائقین

اکثر خواتین کا یہی کہنا تھا کہ ’اگر ہمارے مردوں کو عقل آ جائے اور وہ ہمارا احترام کرنا شروع کر دیں اور کرکٹ بورڈ ہمارے لیے الگ انکلوژر بنا دے تو خواتین کی تعداد کافی بڑھ سکتی ہے۔‘

کچھ فیصل آباد کی روایت اور کچھ ماحول کے سبب ان خواتین میں سے اکثر نے سر پر دوپٹے اور چادریں اوڑھ رکھی تھیں اور کچھ تو باقاعدہ برقعے میں ملبوس تھیں۔

اسی انکلوژر میں اوپر کی نشستوں پر انگریز تماشائی بیٹھے تھے جن میں کچھ انگریزخواتین بھی تھیں جو اپنے شوہروں کے ساتھ میچ کا لطف اٹھا رہی تھیں۔ لندن سے آنے والی این نے محسوس کیا کہ سٹیڈیم میں خواتین بہت کم ہیں جبکہ لیڈز کی چیرل کو تو یہ بھی عجیب لگ رہا تھا کہ یہ خواتین اپنے شوہروں اور خاندان کے دوسرے مردوں سے الگ ایک کونے میں بیٹھی ہیں۔

اسی بارے میں
کرکٹ بھی شرما گئی
18 November, 2005 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد