کرکٹ بھی شرما گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیمیں ٹیسٹ میچ سے پہلے اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں نیٹ پریکٹس میں مصروف رہیں اور ایسے میں دو افراد مختلف زاویوں سے پریکٹس میں مصروف کھلاڑیوں کو دیکھنے میں مصروف تھے جو اٹھارہ سال پہلے اسی میدان پر ایک مشہور جھگڑے کے موقع پر بھی موجود تھے۔ اس موقع پر اس وقت کے ٹیم کے کپتان مائک گیٹنگ اور پاکستانی امپائیر میں انتہائی بدمزگی ہو گئی تھی۔ جو افراد تب بھی فیصلا آباد کے اس ٹیسٹ پر موجود تھے اور آج بھی یہاں ہیں وہ ہیں پاکستانی کمنٹیٹر محمد ادریس اور انگریز فوٹوگرافر گراہم مورس ۔ آج محمد ادریس انگریز کھلاڑیوں کی شناخت کرکے انہیں اپنے ذہن میں جگہ دے رہے ہیں تاکہ جب وہ اتوار سے کمنٹری باکس میں بیٹھیں تو میدان میں موجود کھلاڑیوں کو پہچاننے میں انہیں دشواری نہ ہو جبکہ گراہم مورس اپنے کیمرے سے آنکھیں ملائے پریکٹس سیشن کو اخبارات و جرائد کے لیے محفوظ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اٹھارہ سال قبل جب اسی اقبال اسٹیڈیم میں مائیک گیٹنگ اور شکور رانا قضیے کی شکل میں کرکٹ کی تاریخ کا ایک سیاہ باب رقم ہوا تو ایک نے اسے لفظوں میں بیان کیا اور دوسرے نے اسے کیمرے کی آنکھ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کرلیا۔ اکیاون سالہ گراہم مورس وہ واحد فوٹوگرافر ہیں جن کی مائیک گیٹنگ شکور رانا تکرار والی تصویر دنیا بھر کےاخبارات وجرائد کی زینت بنی۔ گراہم مورس اس واقعے کوشرمناک قرار دیتے ہوئے دعا کرتے ہیں کہ اس طرح کا واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو۔ اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے گراہم مورس کا کہنا ہے کہ تاریکی بڑھتی جارہی تھی کھیل اپنے آخری لمحات میں تھا۔ دیگر فوٹوگرافرز نے اپنا سامان باندھ لیا تھا لیکن ان کا کیمرہ ابھی اسٹینڈ پر ہی تھا کہ انہوں نے اپنے پاس رکھے ایف ایم ریڈیو سیٹ پر اسٹمپ مائیک آن ہونے سے کھلاڑیوں کی آوازیں سنیں تو انہیں محسوس ہوا کہ کچھ ہونے لگا ہے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ انہوں نے کیمرے میں محفوظ کرلیا۔ اس واقعے نے دنیا بھر کو چونکا دیا تھا اور اس کے چرچے ان ملکوں میں بھی ہوئے جہاں کرکٹ نہیں کھیلی جاتی لیکن تصویر جو اس واقعے کو اجاگر کررہی تھی صرف گراہم مورس ہی کی تھی۔ گراہم مورس کہتے ہیں کہ انہیں کسی نے بالٹی مور کے ایک اخبار کا تراشہ بھیجا تھا جس میں ان کی وہ تصویر شائع ہوئی تھی جس کے کیپشن کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی گئی تھی کہ کرکٹ ایک کھیل ہے جو مختلف ملکوں میں کھیلا جاتا ہے۔ پاکستانی کمنٹیٹر محمد ادریس اس واقعے میں مائیک گیٹنگ اور شکور رانا دونوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر شکور رانا نہ ہوتے تو شاید یہ واقعہ اتنی شدت اختیار نہ کرتا۔ انہوں نے ستائیس سالہ کمنٹری کریئر میں بے شمار شاندار بیٹنگ اور بولنگ پرفارمنس بیان کی ہونگی لیکن یہ واقعہ بیان کرنا تکلیف دہ ہے کیونکہ اس نے کرکٹ جیسے جنٹلمین کھیل کو بھی شرما دیا۔ | اسی بارے میں آخر گیٹنگ کو معافی مانگنا پڑی03 October, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||