آخر گیٹنگ کو معافی مانگنا پڑی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرکٹ کی 128 سال کی تاریخ میں صرف دو ٹیسٹ سیریز اپنے متنازع ہونے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ایک تو 1932 کی باڈی لائن ایشز سیریزجب انگلینڈ کے کپتان ڈوگلس جارڈائن نے ڈان بریڈمین کے رنز کی رفتار کو روکنے کے لیے اپنے فاسٹ بالروں سے بجائے وکٹوں پر گیند کرانے کے بیٹسمین کے جسم کی جانب گیند کرانے کو کہا اور پوری دنیائے کرکٹ نے اس کی ملامت کی۔ بریڈ مین پھر بھی رن بنانے میں کامیاب رہے۔ دوسرا تنازع پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 1987 میں فیصل آباد میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں سامنے آئی اور اس کا ذکر امریکہ کے اخبارات نے اپنی شہ سرخیوں میں کیا اور ریڈیو اور ٹی وی میں بھی اس کا تذکرہ آیا۔ لاہور کے پہلےٹیسٹ میں عبدالقادر کی تباہ کن 13 وکٹوں کے نتیجے میں ایک اننگز اور 87 رن سے ہارنے کے بعد جب انگلینڈ کی ٹیم فیصل آباد میں دوسرا ٹیسٹ کھیلنے پہنچی تو لاہور ٹیسٹ میں امپائر شکیل کے فیصلوں پر شکایتیں جاری تھیں لیکن فیصل آباد میں شکیل امپائر نہیں تھے بلکہ شکور رانا اور خضر حیات تھے۔ انگلینڈ کے اخباروں اور انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے پاکستانی امپائروں کو تنقید کا نشانہ بنایاہوا تھا۔ دوسرے ٹیسٹ کے دوسرے دن آخری اوور میں جب آف اسپنرایڈی ہیمنگز گیند کرر ہے تھے اور ان کی تین گیندیں باقی تھیں اور سلیم ملک ان کا سامنا کر رہے تھے تو شکور رانا نےنوٹ کیا کہ انگلینڈ کے کپتان مائیک گیٹنگ اپنے فیلڈر ڈیوڈ کیپل کو بار بار اس وقت سلیم ملک کے پیچھے کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ بیٹسمین، بالر کی طرف دیکھ رہا ہو تو شکور نے کھیل روک کر گیٹنگ کو وارننگ دی کہ یہ قانون کےخلاف ہے۔ جس پر انگلینڈ کے کپتان نے امپائر کو مغلظات سنائیں اور گالیاں دیں اور دھوکے باز کہا۔ امپائر شکور رانا نے بھی انگلینڈ کے کپتان کے خلاف یہی الزام لگائے اور کھیل ختم کر دیا گیا۔
شکور رانا نے تیسرے دن کھیل شروع کرنے سے انکار کر دیا۔اور یہ مطالبہ کیا کہ انگلینڈ کے کپتان ان سے معافی مانگیں۔اور یہی مطالبہ گیٹنگ بھی کرتے رہے۔ تیسرے دن کا کھیل شروع نہیں ہو سکا اور انگلینڈ کے منیجر اور کپتان اور کھلاڑیوں نے یہ دھمکی دی کے وہ دورہ ختم کر رہے ہیں۔ حالات اس قدر خراب ہوگئے کہ پاکستان بورڈ کے صدر جنرل صفدر بٹ نے انگلینڈ کے منیجر سے ملنے سے انکار کر دیا۔ یہاں لندن میں انگلینڈ کے کرکٹ بورڈ نے یہ آرڈر کر دیا کہ کپتان کو معافی مانگنی چاہیے۔ آخرکار مائیک گیٹنگ کو جھکنا پڑا اور انہوں نے معافی نامہ لکھ کر شکور کے حوالے کیا۔ کھیل جب چوتھے دن شروع ہوا تو پاکستان جس کی خستہ حالت تھی۔ میچ بچانے میں کامیاب ہو گیا۔ انگلینڈ کے کرکٹ بورڈ کے تمام اراکین پاکستان پہنچ گئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انگلینڈ کی ٹیم کراچی میں تیسرا ٹیسٹ کھیلنے سے انکار کر دے۔ بہر حال جب انگلینڈ کی ٹیم واپس آئی تو گیٹنگ صرف کچھ عرصہ ہی کپتان رہے اور انہیں ہٹا دیا گیا۔ امپائر شکور رانا اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ اپنے دفاع میں ہمیشہ کہتے تھے کہ مجھے انگریزی زبان زیادہ نہیں آتی تو میں گنی چنی انگریزی کی گالیاں انگلینڈ کے کپتان کو کیسے دے سکتا ہوں۔میں تو وہی الفاظ دہراتا تھا جو انگلینڈ کے کپتان مجھے کہہ رہے تھے۔ مجھے کیا پتہ یہ خراب گالیاں تھیں۔ اس حادثے کے بعد انگلینڈ کی ٹیم نے تیرہ سال تک پاکستان کا دورہ نہیں کیا جبکہ پاکستان کی ٹیم انگلستان کا دورہ کرتی رہی اور مختلف تنازعات کا شکار ہوتی رہی۔ آخری بار انگلینڈ نے 2001 میں ناصر حسین کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کیا اور سیریز ایک صفر سے جیتی تھی۔ | اسی بارے میں مرے کی فیڈرر کے ہاتھوں شکست02 October, 2005 | کھیل شبیر:انگلینڈ کےخلاف پرعزم01 October, 2005 | کھیل انگلینڈ اور پاکستان: ناخوشگوار واقعات 02 October, 2005 | کھیل انگلینڈ پاکستان: 68۔69 کرکٹ سیریز 03 October, 2005 | کھیل کاؤنٹی کرکٹ، غیر ملکیوں کی چھٹّی29 September, 2005 | کھیل ’ کھلاڑی بیان دینےسے باز رہیں‘26 September, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||