انگلینڈ اور پاکستان: ناخوشگوار واقعات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ کی ٹیم اس ماہ ایک بار پھر پاکستان کے دورے پر جارہی ہے۔ دورے میں تین ٹیسٹ اور پانچ ایک روزہ میچ کھیلے جائیں گے۔ امید ہے کہ یہ دورہ پچھلے دوروں سے مقابلتًا خوشگوار رہے گا۔ حالانکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کرکٹ سیریز ہمیشہ کھنچاؤ کا شکار اور متنازعہ رہی ہے۔ 1951 میں جب پاکستان نے کراچی میں ایم سی سی کی ٹیم کو چار وکٹوں سے شکست دی تو بھارت نے انٹرنیشنل کرکٹ کانفرنس جو کہ اب انٹرنشنل کرکٹ کونسل کہلاتی ہے کو سفارش کی کہ پاکستان کو مکمل ممبر شپ دے کر ٹیسٹ ممالک میں شامل کر لیا جائے جسے ایم سی سی نے سپورٹ کیا اور پاکستان ٹیسٹ کھیلنے والا ملک بن گیا۔ لیکن اس کے بعد پاکستان اور ایم ایم سی کے درمیان جو کہ اب انگلینڈ کے نام سے دورہ کرتی ہے، زیادہ تر دوروں میں کوئی نہ کوئی تلخی ہوتی رہی۔ سب سے پہلی تلخی اس وقت ہوئی جب ایم سی سی ’اے‘ ٹیم 1956 میں پاکستان کے دورے پر گئی اور پشاور کے ٹیسٹ میں امپائر ادریس بیگ کو
لاہور کا غیر سرکاری میچ برابر کرنے کے بعد ایم سی سی کی ٹیم ڈھاکہ (مشرقی پاکستان) میں دوسرا ٹیسٹ ایک اننگز اور دس رن سے ہار گئی۔ پشاور کے ٹیسٹ میں بھی ایم ایم سی کی ٹیم سات وکٹوں سے ہار گئی لیکن ایم ایم سی کے کھلاڑی اور کپتان امپائر ادریس بیگ کی امپائری سے ناخوش تھے۔ شام کو ایک ڈنر کے بعدایم سی سی کے چند کھلاڑیوں نے اپنے کپتان کے ساتھ سروسز ہوٹل جا کر امپائر ادریس بیگ کے کمرے پر دستک دی جب ادریس کمرے سے باہر آئے تو کھلاڑی انہیں بازوں سے پکڑ کر ہوٹل سے باہر لائے اور ایک ٹانگے پر بٹھاکر ڈینز ہوٹل میں لے گئے جہاں خود ایم سی سی کی ٹیم ٹھہری تھی۔ انہوں نے ادریس بیگ سے کہا کہ ہم آپ کی خاطر کرنا چاہتے ہیں اور شام کو انجوائے کرنا چاہتےہیں بجائے ادریس کی خاطر کرنے کے ٹیم کے کھلاڑیوں نے امپائر پر پانی کی بالٹیاں پھینکنی شروع کی اور انہیں زدو کوب بھی کیا۔ ہو ٹل کے دربان کو جب کچھ شک ہوا تو پاکستان کے کپتان حفیظ کاردار اور کھلاڑیوں کو خبر کی گئی۔ کچھ ہی دیر میں کاردار، بورڈ کے سیکریٹری گروپ کپٹن چیمہ، فضل محمود، خان محمد اور محمود حسین فاسٹ بالر وہاں پہنچ گئے۔ جب کاردار نے ادریس بیگ پر حملہ کرنے پر احتجاج کیا تو انگلینڈ کے کپتان
اس سنجیدہ الٹی میٹم سے انگلینڈ کے کھلاڑی گھبراگئے۔ پاکستان کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل اسکندر مرزا نے بھی اپنے بورڈ کے فیصلے کی تائید کی۔ یہ خبر ایم سی سی کے صدر لارڈ الیگزینڈر آف ٹیونس کو لندن میں پہنچی تو وہ بہت شرمندہ ہوئے اور پاکستان کے سربراہ کو یہ پیشکش کی کہ میں ٹیم کی جانب سے معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں اور جو بھی مالی تقصان میچ نہ ہونے کی وجہ سے ہو گا اس کی تلافی بھی ایم سی سی کرے گی۔ اس کے بعد اسکندر مرزا اور بورڈ کے سیکرٹری چیمہ سے ایم سی سی کے کپتان ایم سی سی کی ٹیم کے انگلینڈ واپس آنے پر لارڈ ٹیونس نے ان کی خوب خبر لی۔ ’ کار‘ نے اپنی ٹیم کی غلطی مان لی لیکن اس حادثے کے بعد وہ پھر کبھی انگلینڈ کی طرف سے نہیں کھیلے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||