BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 October, 2005, 11:50 GMT 16:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انگلینڈ اور پاکستان: ناخوشگوار واقعات

میچ
ایم سی سی ’اے‘ ٹیم نے 1956 میں پاکستان کا دورہ کیا
انگلینڈ کی ٹیم اس ماہ ایک بار پھر پاکستان کے دورے پر جارہی ہے۔ دورے میں تین ٹیسٹ اور پانچ ایک روزہ میچ کھیلے جائیں گے۔ امید ہے کہ یہ دورہ پچھلے دوروں سے مقابلتًا خوشگوار رہے گا۔

حالانکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کرکٹ سیریز ہمیشہ کھنچاؤ کا شکار اور متنازعہ رہی ہے۔

1951 میں جب پاکستان نے کراچی میں ایم سی سی کی ٹیم کو چار وکٹوں سے شکست دی تو بھارت نے انٹرنیشنل کرکٹ کانفرنس جو کہ اب انٹرنشنل کرکٹ کونسل کہلاتی ہے کو سفارش کی کہ پاکستان کو مکمل ممبر شپ دے کر ٹیسٹ ممالک میں شامل کر لیا جائے جسے ایم سی سی نے سپورٹ کیا اور پاکستان ٹیسٹ کھیلنے والا ملک بن گیا۔ لیکن اس کے بعد پاکستان اور ایم ایم سی کے درمیان جو کہ اب انگلینڈ کے نام سے دورہ کرتی ہے، زیادہ تر دوروں میں کوئی نہ کوئی تلخی ہوتی رہی۔

سب سے پہلی تلخی اس وقت ہوئی جب ایم سی سی ’اے‘ ٹیم 1956 میں پاکستان کے دورے پر گئی اور پشاور کے ٹیسٹ میں امپائر ادریس بیگ کو
زدو کوب کیا گیا۔ اس واقعے کے فوراً بعد ایم سی سی کی ٹیم کو ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا لیکن وقتی مداخلت کی وجہ سے دورہ جاری رہا۔

ادریس بیگ
پاکستان کے امپائر ادریس بیگ کو زدوکوب کیا گیا

لاہور کا غیر سرکاری میچ برابر کرنے کے بعد ایم سی سی کی ٹیم ڈھاکہ (مشرقی پاکستان) میں دوسرا ٹیسٹ ایک اننگز اور دس رن سے ہار گئی۔

پشاور کے ٹیسٹ میں بھی ایم ایم سی کی ٹیم سات وکٹوں سے ہار گئی لیکن ایم ایم سی کے کھلاڑی اور کپتان امپائر ادریس بیگ کی امپائری سے ناخوش تھے۔

شام کو ایک ڈنر کے بعدایم سی سی کے چند کھلاڑیوں نے اپنے کپتان کے ساتھ سروسز ہوٹل جا کر امپائر ادریس بیگ کے کمرے پر دستک دی جب ادریس کمرے سے باہر آئے تو کھلاڑی انہیں بازوں سے پکڑ کر ہوٹل سے باہر لائے اور ایک ٹانگے پر بٹھاکر ڈینز ہوٹل میں لے گئے جہاں خود ایم سی سی کی ٹیم ٹھہری تھی۔ انہوں نے ادریس بیگ سے کہا کہ ہم آپ کی خاطر کرنا چاہتے ہیں اور شام کو انجوائے کرنا چاہتےہیں بجائے ادریس کی خاطر کرنے کے ٹیم کے کھلاڑیوں نے امپائر پر پانی کی بالٹیاں پھینکنی شروع کی اور انہیں زدو کوب بھی کیا۔ ہو ٹل کے دربان کو جب کچھ شک ہوا تو پاکستان کے کپتان حفیظ کاردار اور کھلاڑیوں کو خبر کی گئی۔

کچھ ہی دیر میں کاردار، بورڈ کے سیکریٹری گروپ کپٹن چیمہ، فضل محمود، خان محمد اور محمود حسین فاسٹ بالر وہاں پہنچ گئے۔

جب کاردار نے ادریس بیگ پر حملہ کرنے پر احتجاج کیا تو انگلینڈ کے کپتان
’ کار‘ بد تمیزی سے پیش آئے اس لمحے گروپ کپٹن چیمہ نے انگلینڈ کے کپتان کو حکم دے دیا کہ اب کوئی میچ نہیں ہو گا۔ آپ لوگ اپنا سامان اٹھائیں اور ملک سے چلے جائیں۔

تلافی
 یہ خبر ایم سی سی کے صدر لارڈ الیگزینڈر آف ٹیونس کو لندن میں پہنچی تو وہ بہت شرمندہ ہوئے اور پاکستان کے سربراہ کو یہ پیشکش کی کہ میں ٹیم کی جانب سے معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں اور جو بھی مالی تقصان میچ نہ ہونے کی وجہ سے ہو گا اس کی تلافی بھی ایم سی سی کرے گی۔

اس سنجیدہ الٹی میٹم سے انگلینڈ کے کھلاڑی گھبراگئے۔ پاکستان کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل اسکندر مرزا نے بھی اپنے بورڈ کے فیصلے کی تائید کی۔

یہ خبر ایم سی سی کے صدر لارڈ الیگزینڈر آف ٹیونس کو لندن میں پہنچی تو وہ بہت شرمندہ ہوئے اور پاکستان کے سربراہ کو یہ پیشکش کی کہ میں ٹیم کی جانب سے معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں اور جو بھی مالی تقصان میچ نہ ہونے کی وجہ سے ہو گا اس کی تلافی بھی ایم سی سی کرے گی۔

اس کے بعد اسکندر مرزا اور بورڈ کے سیکرٹری چیمہ سے ایم سی سی کے کپتان
’ کار‘ نےمعافی مانگی اور دورہ جاری رہا۔

ایم سی سی کی ٹیم کے انگلینڈ واپس آنے پر لارڈ ٹیونس نے ان کی خوب خبر لی۔ ’ کار‘ نے اپنی ٹیم کی غلطی مان لی لیکن اس حادثے کے بعد وہ پھر کبھی انگلینڈ کی طرف سے نہیں کھیلے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد