زندگی کا میچ جیتنے کا عزم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زندگی کسے عزیز نہیں۔ پاکستانی ہاکی ٹیم کے سابق گول کیپر محمد قاسم بھی اپنے لیے اور اپنے خاندان کے لیے جینا چاہتے ہیں۔ ان دنوں وہ دلیری کے ساتھ سرطان کے موذی مرض سے نبرد آزما ہیں۔ اٹھائیس سالہ محمد قاسم اسے اپنی زندگی کا سب سے مشکل ترین میچ قراردیتے ہیں اور پر عزم ہیں کہ وہ یہ میچ ضرور جیتیں گے۔ اولمپکس اور ورلڈ کپ سمیت متعدد بین الاقوامی مقابلوں میں چھ سال پاکستان کی نمائندگی کرنے والے محمد قاسم کے لیے زندگی اس وقت بدل گئی جب کھیلتے ہوئے گیند لگنے سے ان کے سینے پر چوٹ لگی۔ اس چوٹ نےگلٹی کی شکل اختیار کرلی اور بعد میں پتہ چلا کہ یہ کینسر ہے۔ محمد قاسم کہتے ہیں کہ واشنگٹن میں ڈاکٹر نجم نے ان کا آٹھ گھنٹے طویل آپریشن کیا اور یہ کہہ کر انہیں نارمل قراردے دیا کہ ٹیومر نکال دیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ٹیومر دوبارہ بھی ہوسکتا ہے۔
یہ خدشہ درست نکلا اور ٹیومر دوبارہ ہوگیا اور جس کے لیے وہ شوکت خانم ہسپتال میں کیمو تھراپی کرا رہے ہیں۔ قاسم کا کہنا ہے کہ کیمو تھراپی انتہائی مہنگا علاج ہے اور عمران خان کی ہدایت پر مفت ہورہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو ماہ بعد پتہ چلے گا کہ دوبارہ آپریشن کی ضرورت ہے یا کیمو تھراپی سے ہی ٹیومر ختم کی جاسکیں گے۔ وہ ڈاکٹروں کی ہدایت پر اپنی تمام تشخیصی رپورٹس امریکہ بھجوا رہے ہیں۔ محمد قاسم اپنے علاج معالجے میں بھرپور تعاون کرنے پر پاکستان ہاکی فیڈریشن، پاکستان اسپورٹس ٹرسٹ کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل عارف حسن اور خواجہ خاور کے شکرگزار ہیں۔ وہ اس خواہش کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے ان کی مدد کرنے کی پیشکش کی تھی اور وہ ان کی مدد کریں۔ محمد قاسم کو اس موذی مرض میں مبتلا ہونے پر کسی سے شکوہ نہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ سب کچھ خدا کی مرضی سے ہوتا ہے انہیں صرف اس بات پر افسوس ہے کہ وہ پاکستان ہاکی کی خدمت نہیں کرسکے جب انہیں گول کیپنگ میں کافی تجربہ حاصل ہوگیا تو بیماری نےآن گھیرا۔ محمد قاسم کہتے ہیں کہ اس مشکل گھڑی میں ان کی بیگم ان سے زیادہ بہادر ثابت ہوئی ہیں جنہوں نے ہر قدم پر ان کا حوصلہ بڑھایا ہے۔یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ ابھی تک بچے ہوئے ہیں ورنہ چھ سات ماہ میں ان کے تین بڑ ے آپریشن ہوچکے ہیں۔ وہ اپنے خاندان دوستوں اور شہر گوجرہ کے لوگوں کی محبت نہیں بھول سکتے جو ان کے لیے دعائیں کررہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||