ہاکی میں شائقین کی عدم دلچسپی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی پہلی سپر ہاکی لیگ اتوار کو سندھ قلندر اور ناردن کیویلیئرز کے درمیان ہونے والے فائنل کے ساتھ اختتام کو پہنچنے والی ہے لیکن ایسے کئی پہلو سامنے آئے ہیں جو اس سپر لیگ کے بارے میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کی توقعات اور بلند دعووں کی نفی کرتے ہیں جن میں خالی اسٹیڈیم، ٹوٹی کرسیاں، ناہموار آسٹروٹرف، فلڈلائٹس کی ناکافی روشنی اور شریک ٹیموں کے انتخاب میں عدم توازن قابل ذکر ہیں۔ مبصرین کے بقول پاکستان ہاکی فیڈریشن اپنے بااثر صدر کے ذریعے انہی کے سابق ادارے سے لیگ کی ٹائٹل اسپانسرشپ حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہوگئی لیکن مفت داخلہ لکی ڈرا اور فوڈ اسٹریٹ کی تشہیر کے باوجود ہاکی کلب آف پاکستان اسٹیڈیم کے کسی عام انکلوژر کو شائقین سے نہ بھر سکی۔ کسی بھی کھلاڑی کے لیے اس سے زیادہ مایوس کن بات کیا ہوسکتی ہے کہ اس کے کھیل کو دیکھنے والا کوئی نہ ہو۔ لیگ میں شریک بھارتی کھلاڑی گگن اجیت سنگھ کے لیے بھی جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا والا معاملہ رہا اور انہیں کہنا پڑا کہ اگر تماشائی ہوتے تو انہیں اپنا کھیل دکھانے میں زیادہ مزا آتا۔ گگن اجیت سنگھ کے دو ساتھیوں دلیپ ٹرکی اور سندیپ سنگھ نے ہاکی کلب آف پاکستان اسٹیڈیم کی آسٹروٹرف کے ناہموار ہونے کی شکایت کی ہے۔ لیگ میں شریک ایک ٹیم کے کوچ قمر ابراہیم ہاکی فیڈریشن پر برس پڑے کیونکہ ان کے خیال میں مقابلے میں حصہ لینے والی چھ ٹیموں میں توازن نہیں رکھا گیا۔ سلیکشن کرتے وقت ایک ٹیم بہت مضبوط بنادی گئی اور دوسری بہت کمزور۔ لیگ کے تمام میچوں کو پاکستان ٹیلی ویژن براہ راست ٹیلی کاسٹ کررہا ہے لیکن ہاکی کلب کے لائٹس ٹاورز کے کئی بلب روشن نہیں ہوسکے اور روشنی ناکافی ہونے کے سبب پی ٹی وی کے کیمرہ مین اور پروڈیوسر بھی پریشان رہے ہیں اور انہوں نے اس کی پی ایچ ایف سے شکایت بھی کی ہے۔ ان بنیادی حامیوں کے باوجود ٹورنامنٹ ڈائریکٹر اصلاح الدین لیگ سے مطمئن ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے بڑا قدم اٹھایا ہے جسے سراہا جانا چاہئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||