’پاکستان آکر خوشی ہورہی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ہونے والی پہلی سپر ہاکی لیگ کی خاص بات چھ بھارتی کھلاڑیوں کی شرکت ہے جن میں بھارتی ہاکی ٹیم کے کپتان دلیپ ٹرکی بھی شامل ہیں۔ اڑیسہ کے گاؤں سندرگڑھ میں ہاکی شروع کرتے ہوئے بھارتی ٹیم کی قیادت تک پہنچنے والے اٹھائیس سالہ دلیپ ٹرکی اسوقت بین الاقوامی ہاکی کے چند منجھے ہوئے دفاعی کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ دلیپ ٹرکی نے کراچی میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک بار پھر پاکستان آکرخوشی محسوس ہورہی ہے۔ماضی میں وہ بھارتی ٹیم کے ساتھ یہاں روایتی حریف کے خلاف مدمقابل ہوچکے ہیں اس مرتبہ وہ مہمان کھلاڑی کے طور پر سپر لیگ میں حصہ لے رہے ہیں جسے وہ ایک اچھا تجربہ سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ انہیں پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اجنبیت محسوس نہیں ہوگی اور نہ ہی ایڈجسٹ ہونے میں مشکل پیش آئے گی کیونکہ تمام کھلاڑی کافی عرصے سے ہاکی کھیل رہے ہیں۔ دلیپ ٹرکی کو احمد عالم کی قیادت میں میدان میں اترنے والی سندھ قلندر میں رکھا گیا ہے۔ بھارتی کپتان کا خیال ہے کہ بھارت کی طرح پاکستانی ہاکی لیگ بھی کامیابی سے ہمکنار ہوگی ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مقابلوں سے ہاکی سے دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کے جوش وخروش میں اضافہ ہوتا ہے اور انہیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ بھارتی ٹیم کی حالیہ مایوس کن کارکردگی کے بارے میں دلیپ ٹرکی کا کہنا ہے کہ بنیادی غلطیوں کو دور کرنا ہوگا۔ ان کے کھلاڑی ڈی میں ملنے والے مواقع ضائع کرتے رہے ہیں اس کے علاوہ تجربہ کار پرانے کھلاڑیوں سے وابستہ توقعات بھی پوری نہیں ہوسکی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||