رویہ بہتر رکھوں گا: محمد ثقلین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان محمد ثقلین نے کہا ہے کہ وہ اپنا رویہ بہتر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور آئندہ بھی یہ کوشش جاری رکھیں گے۔ ثقلین نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر نے انہیں اپنا رویے میں مثبت تبدیلی کے لیے کہا ہے اور وہ ان کی نصیحت پر مکمل عمل کریں گے۔ ثقلین کا کہنا تھا کہ جہاں تک ہیمبرگ ماسٹر میں آسٹریلوی کھلاڑي کو ہاکی لگنے کا واقعے کا تعلق ہے تو اس میں انہوں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا۔ آسٹریلوی کھلاڑی نے غلط سائیڈ سے ٹیکل کرنے کی کوشش کی اور میری ہاکی اسے لگ گئی اس میں میری کوئی غلطی نہیں تھی اور میچ ریفری نے بھی ہماری ٹیم کے خلاف کوئی فاؤل نہیں دیا۔ ثقلین نے کہا کہ آسٹریلوی ٹیم غلط انداز میں اس واقعے کی تشہیر کر رہی ہے۔ پاکستان ٹیم کے کوچ آصف باجوہ کا بھی یہی کہنا تھا کہ اس واقعے میں ثقلین کا کوئی قصور نہیں اور اگر ہوتا تو ہماری ٹیم کے خلاف فاؤل دیا جاتا یا ثقلین کے خلاف ریفری کوئی کارروائی کرتا تاہم ایسا کچھ نہیں ہوا۔ آصف باجوہ کے بقول یورپ کے پورے دورے میں ثقلین کا رویہ میدان میں اور میدان کے باہر مثالی رہا ہے اور اس نے ٹیم کا مورال بلند کرنے میں بہت زبردست کردار ادا کیا اور مینجمنٹ ثقلین کے رویے سے بہت خوش ہے۔ ہیمبرگ ماسٹر میں ناکامی کے بعد آٹھ ملکی ٹورنامنٹ میں کامیابی کیسے ممکن ہوئی اس کے بارے میں پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان محمد ثقلین کا کہنا تھا کہ جب ہم پاکستان سے گئے تھے تو یہاں بہت گرمی تھی اور جرمنی میں درجہ حرارت بہت کم تھا اور وہاں اچھی خاصی سردی تھی جس کے سبب کھلاڑیوں کو موسم سے مطابقت پیدا کرنے میں دشواری کا سامنا رہا۔ ثقلین نے کہا کہ پاکستان سے روانگی سے پہلے ہی ہم نے کہا تھا کہ ہماری نگاہیں آٹھ ملکی ٹورنامنٹ پر ہیں۔ پاکستان ٹیم کے کپتان نے کہا کہ یہ ٹورنامنٹ کافی اہم تھا اور اسے ہم نے بہتر تکنیک اور سخت محنت کے سبب جیتا اور ایسا تاثر غلط ہے کہ یہ جیت ہمیں کی کوشش کے بغیر حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ٹیم کا کمبی نیشن بہت زبردست ہے اور ہم اسی جذبے سے کھیلتے ہوئے چمپئنز ٹرافی جیتنے کی کوشش بھی کریں گے۔ پینیلٹی کارنر لگانے کے ماہر سہیل عباس کے بارے میں پاکستانی ٹیم کے کپتان ثقلین نے کہا کہ سہیل عباس کو ٹیم میں آنا چاہیے اور اس کی ٹیم میں واپسی سے ٹیم کو فائدہ حاصل ہو گا لیکن یہ تاثر صحیح نہیں کا سہیل عباس کے بغیر ٹیم جیت نہیں سکتی اور ہم نے آٹھ ملکی ٹورنامنٹ میں جیت کر یہ ثابت کر دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||