BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 July, 2005, 10:40 GMT 15:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جونیئرز کوملائشیا بھیجناغلط تھا‘

News image
کوئی بھی ٹیم ایک ماہ میں دو مرتبہ عروج پرنہیں پہنچ سکتی :مسرت اللہ
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے یہ تسلیم کیا ہے کہ جونیئر کھلاڑیوں کو سینئر ٹیم میں شامل کرکے اذلان شاہ ٹورنامنٹ میں بھیجنا ایک غلط فیصلہ تھا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے جونیئر ہاکی ٹیم کے بارہ کھلاڑیوں کو بلندو بانگ دعووں کے ساتھ اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی سینئر میں شامل کیا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ پاکستانی جونیئر ٹیم کے کوچ اور منیجر بھی بہتر ہینڈلنگ کے دعوے کے ساتھ کوالالمپور بھیجے گئے تھے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری بریگیڈیر مسرت اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جونیئر ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی سے انہیں سخت مایوسی ہوئی ہے اور ساتویں پوزیشن کسی طور قابل قبول نہیں۔ یہ ٹیم باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل تھی جو بہت اچھی کارکردگی دکھاسکتے تھے لیکن تین چار بنیادی غلطیوں کی وجہ سے نتیجہ مایوس کن رہا۔

پی ایچ ایف کے سیکرٹری کے مطابق جونیئرز کو ملائشیا بھیج کر غلطی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ٹیم ایک ماہ میں دو مرتبہ عروج پر نہیں پہنچ سکتی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹیم کا ردھم اور ٹیمپو ٹوٹ گیا۔

جونیئر ورلڈ کپ میں ٹیم منیجمنٹ میچ کے دوران گیم پلان کے مطابق کھلاڑیوں کو وقت پر تبدیل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ کھلاڑی انفرادی کھیل کھیلتے رہے اور ان میں ٹیم ورک کا فقدان رہا۔

بریگیڈیر مسرت اللہ کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اس بات پر قائم ہیں کہ جونیئر کھلاڑی باصلاحیت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2009 ء کے جونیئر ورلڈ کپ کے لیے ابھی سے کوششیں شروع کی جارہی ہیں اور آئندہ ماہ سترہ سال سے کم عمر کے کھلاڑیوں کی قومی ہاکی چیمپئن شپ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری نے دعوی کیا کہ 2006ء ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم تیار ہے۔

سینیٹ کی اسپورٹس سے متعلق کمیٹی کی جانب سے اٹھائےگئے اس اعتراض پر کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن پیسے لے کر ویزے لگوا کر ہاکی سے تعلق نہ رکھنے والے لوگوں کو بیرون ملک بھجوانے کا کاروبار کررہی ہے، بریگیڈیرمسرت اللہ نے کہا کہ اس سلسلے میں فیڈریشن نے اپنے طور پر انکوائری کروا کر ذمہ دار شخص کو ملازمت سے نکال دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں فیڈریشن بحیثیت ادارہ ملوث نہیں اور سینیٹ کے معزز ارکان کو انسانی اسمگلنگ جیسا سخت لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

دوسری جانب سینیٹ کی اسپورٹس سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن سینیٹر انور بیگ نے الزام عائد کیا ہے کہ ہاکی فیڈریشن اس انکوائری کی رپورٹ پیش کرنے میں پس و پیش سے کام لے رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد