’ہاکی دس سال پیچھے چلی گئی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی ہاکی ٹیم کی جونیئر ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی کو پاکستان کے سابق اولمپئنز تاریک مستقبل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ہالینڈ میں منعقدہ جونیئر ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم جس کے بارے میں ہاکی فیڈریشن نے بلند بانگ دعوے کیے تھے صرف ساتویں پوزیشن حاصل کرسکی۔ یہ عالمی کپ ارجنٹائن نے جیتا۔ قومی ٹیم کے سابق کپتان اور کوچ حنیف خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جونیئر ورلڈ کپ کھیلنے والی ٹیم کو کس بنیاد پر جونیئر ٹیم کہا جائے جبکہ اس ٹیم کے کھلاڑیوں کی اکثریت پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کی نمائندگی کرتی آئی ہے۔ حنیف خان کا کہنا ہے کہ قومی جونیئر ٹیم کے سابق منیجر کرنل رؤف کے زمانے میں کپتان شکیل عباسی، عدنان ذاکر، ناصر، اقبال اور عمران خان اوورایج قرار پائے تھے جبکہ یہ کھلاڑی ان کے جانے کے بعد دوبارہ جونیئرٹیم میں شامل کر لیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ شکست کی براہ راست ذمہ داری کوچ طاہرزمان پر عائد ہوتی ہے جو مسلسل ناکامی کے باوجود کبھی سینیئر اور کبھی جونیئر ٹیم کے کوچ بنا دیے جاتے ہیں۔ حنیف خان کے خیال میں ہالینڈ کے سرد موسم میں ورلڈ کپ کھیلنے سے قبل ٹیم کو کوالالمپور کے گرم موسم میں کھلانے کا فیصلہ غلط تھا۔ حنیف خان کہتے ہیں کہ پاکستانی ہاکی اس مایوس کن کارکردگی کے بعد آٹھ دس سال پیچھے چلی گئی ہے۔ سابق کپتان اصلاح الدین بھی یہی بات کہتے ہیں کہ اس شکست نے پاکستانی ہاکی کو پیچھے کردیا ہے اور اسے دوبارہ کوئی بڑا ٹائٹل جیتنے میں وقت لگے گا۔ اصلاح الدین کا کہنا ہے کہ جونیئر ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی یہ سب سے اچھی ٹیم تھی لیکن فارورڈز میں اسکورنگ پاور کا فقدان اور کمزور دفاع شکست کا سبب بنے۔ اصلاح الدین کے خیال میں یہ ناکامی درحقیقت جونیئر نہیں سینئر ٹیم کے لیے دھچکہ ہے۔ سابق اولمپئنز سمیع اللہ اور خواجہ ذکاء الدین نے بھی ٹیم کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا ہے ذکاء الدین کا کہنا ہے کہ شکست کی ذمہ دار ٹیم منیجمنٹ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||