سہیل عباس واپسی کے لیے تیار نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ہاکی فیڈریشن مشہور کھلاڑی سہیل عباس کو ریٹائرمنٹ ختم کرنے پر آمادہ نہیں کر سکی ہے۔ ’ سہیل عباس نے انٹرنیشنل ہاکی میں فوری واپسی کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ میں اگر ملک کو ان کی ضرورت ہوئی تو وہ ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لے لیں گے لیکن فی الحال وہ ٹیم میں دوبارہ شامل نہیں ہوسکتے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے آئندہ ماہ یورپ میں ہونے والے دو انٹرنیشنل ٹورنامنٹس کے لیے جن ممکنہ کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا ہے ان میں سہیل عباس بھی شامل ہیں ۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ازلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کے موقع پر بھی سہیل عباس سے توقع باندھی تھی کہ وہ ٹیم میں شامل ہونگے لیکن انہوں نے ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر نظرثانی نہیں کی اور اب بھی وہ کہتے ہیں کہ وہ فی الحال انٹرنیشنل ہاکی سے ریٹائر ہوچکے ہیں۔ سہیل عباس نے لاہور میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی کے بعد انٹرنیشنل ہاکی کو خیرباد کہہ دیا تھا لیکن پاکستان ہاکی فیڈریشن انہیں ٹیم میں واپس لانے کی کوشش کی۔ پی ایچ ایف کے سیکریٹری کا کہنا ہے کہ سہیل عباس میں ابھی ہاکی باقی ہے اور وہ مزید چند سال انٹرنیشنل ہاکی کھیل سکتے ہیں دوسری جانب پی ایچ ایف کے صدر کا کہنا ہے کہ فیڈریشن کسی بھی کھلاڑی کو کھیلنے پر مجبور نہیں کررہی اور جسے کھیلنا ہے وہ خوشی سے کھیلے۔ انتیس برس کےسہیل عباس نے پاکستان کی جانب سے دو سو بائیس بین الا قوامی میچوں میں دو سو چوہتر گول کر کے نيا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ سہیل عباس انیس سو تہتر کا عالمی کپ کھیلنے والے پاکستان کے بین الا قوامی کھلاڑی صفدر عباس کی بہن کے بیٹے ہیں۔ سہیل عباس کے انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز انیس سو اٹھانوے میں بھارت کے خلاف آٹھ میچوں کی سیریز سے ہوا۔ انیس سو ننانوے میں انہوں نے ساٹھ گول کیے اور ایک سال میں زیادہ گول کرنے کا بھی ریکارڈ بنایا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||