’بس ایسے ہی ہاکی شروع کی تھی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ہاکی ٹیم کے پینلٹی کارنر سپیشلسٹ سہیل عباس نے بین الاقوامی ہاکی میں گول کرنے کا عالمی ریکارڈ برابر کرنے کے بعد کہا ہے کہ انہوں نے سکول میں ’چھُٹی کے لیے بس ایسے ہی ہاکی شروع کر دی تھی‘۔ ریکارڈ برابر کرنے پر انہوں نے کہا کہ ’بہت اچھا لگ رہا ہے، میں نے اللہ کا شکر ادا کیا، کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہاں تک آجاؤں گا‘۔ سہیل عباس نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سن دو ہزار کی اولمپک میں جنوبی کوریا کے خلاف میچ ان کی زندگی کا سب سے یادگار میچ ہے۔ عباس نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم وہ میچ ہار گئی تھی لیکن انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ’میری صحیح ہاکی اور سب کچھ شروع ہوا‘۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان دِلّی میں کھیلے گئے پانچویں ہاکی ٹیسٹ میں سہیل عباس نے دو گول کیے۔ دوسرا گول ان کی پسندیدہ پینلٹی کارنرشاٹ کی بجائے پینلٹی اسٹروک پر ہوا لیکن اسی کے نتیجے میں وہ پال لٹجنس کے ساتھ انٹرنیشنل ہاکی میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے۔
سہیل عباس نے کہا کہ وہ اولمپک میں اچھی کارکردگی دکھانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا انہیں افسوس ہے کہ ٹیم ایتھنز میں میڈل نہیں جیت سکی لیکن انہوں نے اولمپک ریکارڈ قائم کیا اور سب سے زیادہ گول بھی سکور کیے۔ عباس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بھارت کے خلاف ریکارڈ پورا کرنا دوسری کسی ٹیم کے مقابلے میں کچھ زیادہ اہم ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اس بات کا انہیں ابھی احساس نہیں لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں شاید یہ بات اہم لگے۔ اپنے یادگار ترین گول کے بارے میں عباس نے کہا کہ انہیں بہت سے گول اہم لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب گول تو یاد نہیں لیکن آج دِلّی میں دونوں گول یاد رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں گول اتفاقاً ہو گئے، پینلٹی کارنر پر نہ ہی بال صحیح پھینکی گئی اور نہ ہی ان کی شاٹ ان کی مرضی کے مطابق لگی لیکن گول ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ دوسرا گول بھی اسی طرح ہو گیا۔ سہیل عباس نے کہا کہ ’لگتا ہے کہ آج اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ لکھا ہوا تھا‘۔ عباس نے منورالزمان (مرحوم)، قاضی مُحب(مرحوم)، شہباز سینیئر اور بھارت کے دھنراج پِلے کو اپنا پسندیدہ کھلاڑی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک کھلاڑی کا نام نہیں لیا جا سکتا کیونکہ انہوں نے ان سب لوگوں سے کچھ نہ کچھ سیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بھی تھے جو ان کے خیال میں بہت اہم ہے۔ برِ صغیر میں ہاکی کی ترقی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کے لیے سب سے ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت کے کھلاڑی یورپی ٹیموں کے خلاف کھیلیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت سیریز سے لوگوں کی ہاکی میں دلچسپی تو قائم رکھی جا سکتی ہے لیکن اس سے ہاکی بہتر نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ٹیموں کے ساتھ سیریز کا انعقاد ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ یہاں کے کھلاڑیوں کو یورپ میں لیگ کی سطح پر ہاکی کھیلنی چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||