وسیم احمد، سہیل عباس ریٹائر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ہونے والی چھبیسویں چیمپیئنز ٹرافی میں بھارت کے خلاف تیسری پوزیشن کے لیے میچ کے بعد پاکستان کے دو کھلاڑیوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ پاکستان کے کپتان وسیم احمد اور نائب کپتان سہیل عباس نے کہا کہ وہ بین الاقوامی ہاکی سے ریٹائر ہو رہے ہیں تاہم وہ قومی سطح پر اور لیگ ہاکی کھیلتے رہیں گے۔ سہیل عباس نے ایتھنز اولمپکس کے بعد بھارت کے ساتھ ہاکی سیریز کے دوران سب سے زیادہ گول کا پال لیٹجن کا عالمی ریکارڈ توڑا تھا۔ اس چیمپیئنز ٹرافی کے دوران انہوں نے چیمپیئنز ٹرافی کے ایک ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ گول کرنے کا آسٹریلیوی کھلاڑی مارک ہیگر کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ۔ انتیس برس کےسہیل عباس نے پاکستان کی جانب سے دو سو بائیس بین الا قوامی میچوں میں دو سو چوہتر گول کر کے نيا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ سہیل عباس انیس سو تہتر کا عالمی کپ کھیلنے والے پاکستان کے بین الا قوامی کھلاڑی صفدر عباس کی بہن کے بیٹے ہیں۔ سہیل عباس کا کہنا ہے کہ وہ بچپن میں اپنے ماموں کے گھر کی چھت پر محلے کے لڑکوں کے ساتھ ہاکی کھیلا کرتے تھے اور نچلی منزل پر رہنے والے ہم سے بہت تنگ ہوتے تھے۔ بچپن ہی سے ہاکی کے کھیل کا شوق اور ٹیلینٹ رکھنے والے سہیل عباس نے انیس سو چھیانوے ستانوے کے ڈومیسٹک سیزن میں سب سے زیادہ گول کیے لیکن ٹیم میں جگہ نہ پا سکے۔ اس دوران انہوں نے جونیئر ٹیم کے ساتھ کچھ بین الا قوامی میچز بھی کھیلے۔ سنہ 2000 اور 2004 کے المپکس کھیلنے والے سہیل عباس کے انٹرنیشنل کیریئر کا صحیح طور پر آغاز انیس سو اٹھانوے میں بھارت کے خلاف آٹھ میچوں کی سیریز سے ہوا۔ انیس سو ننانوے میں انہوں نے ساٹھ گول کیے اور ایک سال میں زیادہ گول کرنے کا بھی ریکارڈ بنایا۔ ریٹائرمنٹ کی وجہ بتاتے ہوئے سہیل عباس نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو وقت دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تقریباً دو ہفتوں میں شادی ہونے والی ہے۔ سہیل کا کہنا تھا کہ وہ اپنے عروج پر ریٹائرمنٹ لینا چاہتے تھے اور یہ اس کے لیے مناسب وقت ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ہاکی کے لیے بہت وقت دینا پڑتا ہے اور اب وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد وہ ہالینڈ اور دوسرے یورپی ممالک میں لیگ ہاکی کھیلتے رہیں گے۔ سہیل عباس کو اتنی کامیابیوں کے باوجود اس بات کا قلق ہے کہ جب سے انہوں نے بین الاقوامی ہاکی کھیلنی شروع کی پاکستان کسی اہم ٹورنامنٹ میں گولڈ میڈل حاصل نہیں کر سکا۔ سہیل عباس کا کہنا ہے کا اس بات کا افسوس انہیں ہمیشہ رہے گا۔ سہیل عباس چار مرتبہ پلیئر آف دی ائیر کے لیے نامزد ہوئےتاہم وہ یہ اعزاز حاصل نہ کر سکے اس سال بھی وہ اس کے امیدوار تھے تاہم آسٹریلی کے جیمی ڈاؤر یہ اعزاز لے گئے جس پر مبصرین ہاکی نے اعتراض بھی کیا۔ خود سہیل عباس کے بقول انہیں یا اعزاز نہ ملنے کا کوئی دکھ نہیں۔ ہاکی کے کچھ ناقدین سہیل عباس پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سہیل عباس نے سخت اور اہم مقابلوں میں اچھی کارکردگی نہیں دکھائی۔ پاکستان ٹیم کے کپتان وسیم احمد کو ٹیم کی کپتانی المپکس کے بعد محمد ندیم عرف این ڈی کی ریٹائرمنٹ کے بعد ملی اور انہوں نے بھارت کے خلاف آٹھ میچوں کی سیریز اور چمپئنز ٹرافی میں کپتانی کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ انہیں آج بھارت کے خلاف برونز میڈل کے میچ کو جیتنے کے بعد مین آف دی میچ بھی قرار دیا گیا۔ وسیم احمد نے بھی ریٹائرمنٹ کی وجہ وہی بتائی جو سہیل عباس نے بتائی تھی کہ وہ اب اپنے خاندان کو وقت دینا چاہتے ہیں اور سہیل کی طرح وسیم عباس بھی جلد ہی ازدواجی رشتے میں بندھنے والے ہیں۔ یہ پوچھنے پر کہ کیا آپ ریٹائر منٹ کے اس فیصلے پر نظر ثانی کریں گے سہیل عباس اور وسیم احمد کا جواب تھا کہ فلحال تو نہیں البتہ اگر سنہ 2006 کے عالمی کپ کے لیے ٹیم کو ان کی ضرورت ہوئی اور انہیں بلایا گیا تو وہ پاکستان کے لیے پھر کھیلیں گے۔ دونوں کا کہنا تھا کہ وہ خود کو بین الاقوامی ہاکی کے لیے جسمانی طور پر فٹ رکھیں گے۔ پاکستان میں ہاکی کے بڑے کھلاڑیوں نے ان دونوں کی ریٹائرمنٹ پر ملا جلا ردعمل دکھایا ۔زیادہ تر کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ جلد بازی کا ہے اور ان دونوں کو ابھی پاکستان کے لیے مزید کھیلنا چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||