کاشف جواد کی شکایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سینٹر فارورڈ کاشف جواد نے پاکستانی ہاکی ٹیم سے نکالے جانے کا ذمہ دار کوچ آصف باجوہ کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کی ذاتی پسند ناپسند کا شکار ہوئے ہیں کیونکہ وہ ان کے بجائے ثقلین کو کپتان بنانے کے حق میں تھے۔ کاشف جواد کو اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کے بعد یورپ کے دورے پر جانے والی ہاکی ٹیم میں بھی شامل نہیں کیا گیا ہے جس پر متعدد اولمپیئنز نے حیرت کا اظہار کیا ہے اور ان کے ڈراپ کیے جانے کو غلط حکمت عملی سے تعبیر کیا ہے۔ خود کاشف جواد نے جو 187 میچوں میں 110 گول کرچکے ہیں خاموش رہنے کے بجائے اس فیصلے پر صدائے احتجاج بلند کی ہے۔ کاشف جواد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیمپ میں انہوں نے اتنی ہی ٹریننگ کی جتنی دوسرے کھلاڑیوں نے کی لیکن کوچ آصف باجوہ کہتے ہیں کہ انہیں خراب فارم کے سبب ڈراپ کیا گیا ہے جو سراسر غلط ہے۔ وہ فٹ ہیں جہاں تک فارم کا تعلق ہے چیمپئنز ٹرافی کے بعد انہوں نے بھارت میں لیگ ہاکی کھیلی اور سب سے زیادہ سات گول کیے۔ اسوقت بھی وہ فٹ ہیں اور دو سال باآسانی بین الاقوامی ہاکی کھیل سکتے ہیں۔ کاشف جواد کا کہنا ہے کہ اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کی ٹیم سے ڈراپ کیے جانے کے وقت بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری، چیف سلیکٹر اور کوچ نے الگ الگ وجوہات بیان کی تھیں۔ کاشف جواد کہتے ہیں کہ انہیں سیکریٹری یا چیف سلیکٹر سے کوئی شکایت نہیں ہے اس تمام ترصورتحال کے ذمہ دار کوچ آصف باجوہ ہیں جو سرٹیفکیٹ تو کوچنگ کا رکھتے ہیں لیکن کیمپ میں سوائے کھلاڑیوں کو فزیکل ٹریننگ کے کچھ اور نہیں کراسکتے۔ کاشف جواد کے خیال میں چونکہ وہ سینئر ہونے کے ناتے کپتانی کے مضبوط امیدوار تھے جبکہ ایک لابی ثقلین کو کپتان بنانا چاہتی تھی جو آصف باجوہ کے ادارے سے تعلق رکھتے ہیں لہذا انہیں ڈراپ کردیا گیا۔ ثقلین کو کپتان بنانا ملک کے ساتھ زیادتی ہے جو جونیئر ٹیم سے اپنے خراب رویے پر باہر ہوئے سڈنی اولمپکس کے وقت یہی ہوا اور پھر ایتھنز اولمپکس کے موقع پر کیمپ میں ساتھی کھلاڑی کو ہاکی اسٹک مارنے پر ٹیم میں شامل نہیں کیے گئے اس کے باوجود انہیں کپتان بنادیا گیا اور انہوں نے کورین کھلاڑی کو ہاکی ماردی جس پر ان پر ایک میچ کی پابندی لگ گئی۔ کاشف کو یقین ہے کہ قومی ٹیم میں ان کی واپسی ہوگی ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جو بھی ہاکی کھیلی ہے میرٹ پر کھیلی ہے انہوں نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑدیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||