سہیل عباس فیڈریشن سے ناراض | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنالٹی کارنر ایکسپرٹ سہیل عباس پاکستان ہاکی فیڈریشن سے سخت ناراض ہیں کہ وہ انٹرنیشنل ہاکی سے ان کی ریٹائرمنٹ کے باوجود ان کا نام قومی کیمپ کے ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل کرتی رہی ہے۔ سہیل عباس جو انٹرنیشنل ہاکی میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں چیمپئنز ٹرافی کے اختتام پر بین الاقوامی ہاکی کو خیرباد کہنے اور ضرورت پڑنے پر منتخب بڑے ٹورنامنٹس میں حصہ لینے کا اعلان کرچکے ہیں۔ لیکن پاکستان ہاکی فیڈریشن ایک سے زائد بار یہ تاثر دے چکی ہے کہ سہیل عباس قومی ٹیم میں واپس آرہے ہیں تاہم سہیل عباس کا کہنا ہے کہ ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ سہیل عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیشنل ہاکی سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ حتمی ہے انہیں نہیں معلوم کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن ان کی مرضی کے برخلاف ان کا نام کیمپ کے ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل کرتی رہی ہے۔ وہ کسی تنازعہ میں الجھنا نہیں چاہتے کیونکہ بقول ان کے’ کیچڑ میں پتھر پھینکنے سے آپ کے کپڑے ہی خراب ہوتے ہیں‘۔ سہیل عباس نے کہا کہ منتخب ٹورنامنٹس میں کھیلنے کا مطلب یہ ہے کہ جب پاکستانی ہاکی کو ان کی ضرورت پڑی تو وہ حاضر ہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ اپنی لیگ مصروفیات چھوڑ کر کیمپ میں آئیں گے۔ ’دنیا بھر میں کھلاڑی لیگ کھیل کر ٹیم میں شامل ہوجاتے ہیں جبکہ ہمارے یہاں طویل کیمپ کا رواج ہے جس میں شمولیت اب میرے لیے ممکن نہیں‘۔ سہیل عباس نے اس سوال پر کہ کیا آپ کی ریٹائرمنٹ فیڈریشن کے ارباب اختیار کے نامناسب سلوک کا نتیجہ تھی؟ کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ کہنا نہیں چاہتے۔ سہیل عباس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بعد پنالٹی کارنر کا شعبہ غیرموثر دکھائی دینے پر مایوس نہیں ہیں کیونکہ ’ہم فوری نتائج کے قائل ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ ’ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیلنٹ کو بھرپور موقع اور وقت ملے‘۔ سہیل عباس اس ماہ کے اواخر میں ہالینڈ جارہے ہیں جہاں وہ روٹرڈیم میں لیگ ہاکی کھیلیں گے۔ ان کی ٹیم اس سال اے ڈویژن میں حصہ لے گی۔ سہیل عباس کا کہنا ہے کہ وہ کوچنگ میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں اور ان کا ارادہ کوچنگ کورس کرنے کا بھی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||