BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 April, 2005, 16:36 GMT 21:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سہیل عباس: نہ تو ہاں نہ ہی نہ

سہیل عباس
فیڈریشن کا کہنا ہے کہ جب ضرورت ہوئی سہیل عباس پاکستان کے لیے دستیا ب ہونگے
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق کرمانی کا کہنا ہے کہ پی ایچ ایف پنالٹی کارنر ایکسپرٹ سہیل عباس کی طرف التجا بھری نظریں لگائے نہیں بیٹھی ہے اور جسے پاکستان کے لیے کھیلنا ہے وہ کھیلے جسے نہیں کھیلنا اس کی منت سماجت نہیں کی جائے گی کیونکہ ملک میں کھلاڑیوں کی کمی نہیں ہے۔

تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ’سچ تو یہ ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن ورلڈ ریکارڈ ہولڈر کھلاڑی کے معاملے میں کسی فیصلے پر پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے‘۔

سہیل عباس نے چیمپئنز ٹرافی کے اختتام پر بین الاقوامی ہاکی کو خیرباد کہنے کا اعلان کیا تھا جسے فیڈریشن نے تسلیم نہیں کیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ سہیل عباس نے باضابطہ طور پر اسے اپنی ریٹائرمنٹ کے فیصلے سے مطلع نہیں کیا جس کے بعد سے سہیل عباس کی ریٹائرمنٹ اور واپسی کا معاملہ بے یقینی کا شکار ہے۔

سہیل عباس کے بارے میں فیڈریشن کا کہنا ہے کہ جب ضرورت ہوئی وہ پاکستانی ٹیم کے لیے دستیا ب ہونگے لیکن سہیل عباس کی ترجیح جرمنی میں ہونے والی لیگ ہاکی کا پرکشش معاہدہ ہے جبکہ فیڈریشن اپنے صدر کے تمام تر دعوے کے باوجود سہیل عباس سے حتمی جواب کی منتظر ہے۔

سہیل عباس کا نام اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کے لیے کیمپ کے اعلان کردہ کھلاڑیوں میں شامل ہے لیکن تاحال وہ کیمپ میں نہیں آئے ہیں جس سے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اس دعوے کی نفی ہوتی ہے کہ اسے کسی کھلاڑی کی پرواہ نہیں ہے۔اگر ایسا ہوتا تو طارق کرمانی دوبار سہیل عباس سے ملاقات نہ کرتے اور فیڈریشن کو ان کے فیصلے کا انتظار نہ ہوتا۔

پاکستانی ٹیم کے منیجر سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ فیڈریشن کو سہیل عباس کے بارے میں جلد کسی حتمی فیصلے پر پہنج جانا چاہیے کیونکہ کسی کھلاڑی کو اس کی مرضی کے برخلاف ٹیم میں واپس لینے سے ٹیم کی اسپرٹ متاثر ہوتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سہیل عباس کے متبادل کے طور پر عمران وارثی کو تیار کیا جارہا ہے جبکہ غضنفر بھی موجود ہے۔

پاکستانی ہاکی پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ بڑے میچوں میں پاکستان کو نہ جتوانے کے تاثر کے باوجود سہیل عباس نے پاکستان کو متعدد مرتبہ کامیابیوں سے ہمکنار کیا ہے اور اس وقت پاکستانی ٹیم کو سہیل عباس جیسے کھلاڑی کی ضرورت ہے لیکن اگر وہ پاکستان کے لیے مزید کھیلنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تو فیڈریشن کو اس معاملے کو طول نہیں دینا نہیں چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد