BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 July, 2005, 20:07 GMT 01:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ورلڈکپ ناکامی: مشترکہ ذمہ داری

طاہر زمان
سابق کھلاڑیوں نے جونئر عالمی کپ کے نہ تو میچ دیکھے ہیں اور نہ ہی انہیں جدید ہاکی کے کئی قوانین کا علم ہے وہ کیسے ٹیم کی شکست پر تکنینکی روشنی ڈال سکتے ہیں
پاکستان کی جونئر ہاکی ٹیم کے چیف کوچ طاہر زمان نے ہاکی کے سینئر سابق المپئنز کی تنقید کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان سابق کھلاڑیوں نے جونئر عالمی کپ کے نہ تو میچ دیکھے ہیں اور نہ ہی انہیں جدید ہاکی کے کئی قوانین کا علم ہے وہ کیسے ٹیم کی شکست پر تکنینکی لحاظ سے روشنی ڈال سکتے ہیں۔

طاہر زمان نے کہا کہ جونئر ورلڈ کپ میں ناکامی کی ذمہ داری ہاکی فیڈریشن، ٹیم مینجمنٹ اور کھلاڑیوں تینوں پر ہے۔

ہالینڈ میں ہونے والے جونئر ورلڈ کپ میں ساتویں پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم کے ساتھ چیف کوچ طاہر زمان واپس نہیں آئے تھے۔

ان کی عدم موجودگی میں متعدد سابق المپئنز نے ان کو جونئر ورلڈ کپ میں شکست کا ذمہ دار ٹہھرایا۔
وطن واپس آتے ہی پاکستان جونئر ٹیم کے کوچ طاہر زمان نے پریس کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں انہوں نے ہر میچ میں ٹیم کی کارکردگی کا الگ الگ جائزہ پیش کیا اور ان وجوہات پر روشنی ڈالی جو ٹیم کی مایوس کن کارکردگی سبب بنیں۔

طاہر زمان نے کہا کہ اپنے پول میں ہمیں جرمنی کے خلاف جیتنا چاہیے تھا تاہم ہم وہ میچ دو صفر سے ہار گئے۔

جرمنی کے خلاف اس میچ میں کھلاڑیوں نے گیم پلان کے مطابق کھیل پیش نہیں کیا۔

طاہر زمان کے مطابق عام طور پر جب ٹیم ہارتی ہے تو اس کی ذمہ داری مینجمنٹ پر ڈال دی جاتی ہے تاہم اگر ٹیم ہی میدان میں اچھا نہ کھیلے تو مینجمنٹ کیا کرے۔

طاہر زمان نے کہا کہ ورلڈ کپ میں ہماری ٹیم کا ایک اہم ہتھیار پینلٹی کارنر پر گول کرنا تھا تاہم ہم حاصل کردہ پینتالیس پینیلٹی کارنرز میں سے صرف دس پر گول کر سکے۔
پاکستان جونئرہاکی ٹیم کے کوچ نے کہا کہ اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں جونئر ٹیم کے بارہ کھلاڑی بھیجنے کا فیصلہ پاکستان ہاکی فیڈریشن اور ہم سب نے مل کر کیا تھا اس وقت کسی نے اس فیصلے کو غلط نہیں کہا اور اسے ٹیم کے حق میں بہتر سمجھا لیکن اس فیصلے نے بھی ٹیم کی کارکردگی پر اثر ڈالا۔

ورلڈ کپ میں ٹیم کی فٹ نس اسی فیصلے کے سبب متاثر ہوئی اور جن کھلاڑیوں نے ازلان شاہ میں اچھی کارکردگی دکھائی تھی وہ ورلڈ کپ میں بہتر کھیل کا مظاہرہ نہ کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس لحاظ سے ورلڈ کپ میں ناکامی کی ذمہ داری ہم سب پر ہے۔ البتہ اس ناکامی پر جس قسم کی تنقید ہوئی وہ درست نہیں انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والوں نے تنقید برائے تنقید کی اور صرف ان کی ذات کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ ان سابق کھلاڑیوں کا یہ کہنا کہ ٹیم کے ہارنے سے ہاکی دس سال پیچھے چلی گئی ہے تو کوئی یہ بتائے کہ کتنے سال سے ہماری ٹیم کوئی بڑا ٹورنامنٹ نہیں جیتی ٹیم پہلے کون سی آگے تھی جو اب پیچھے جائے گی۔

طاہر زمان نے تنقید کرنے والوں سے پوچھا کہ انہوں نے اب تک پاکستان میں ہاکی کی ترقی میں کون سا کردار ادا کیا ہے ؟ طاہرزمان نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ٹیم میں کوئی گروپنگ تھی یا وہ کچھ کھلاڑیوں کو خاص سمجھتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کوچ کے لیے سب کھلاڑی برابر ہوتے ہیں۔ طاہر زمان نے کہا کہ اگر پاکستان میں ہاکی کو دوبارہ زندہ کرنا ہے تو طویل المعیاد منصوبہ بندی کرنی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے ملک میں کوچنگ کی کوئی بھی آفر قبول ہو گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد