ورلڈکپ ناکامی: مشترکہ ذمہ داری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی جونئر ہاکی ٹیم کے چیف کوچ طاہر زمان نے ہاکی کے سینئر سابق المپئنز کی تنقید کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان سابق کھلاڑیوں نے جونئر عالمی کپ کے نہ تو میچ دیکھے ہیں اور نہ ہی انہیں جدید ہاکی کے کئی قوانین کا علم ہے وہ کیسے ٹیم کی شکست پر تکنینکی لحاظ سے روشنی ڈال سکتے ہیں۔ طاہر زمان نے کہا کہ جونئر ورلڈ کپ میں ناکامی کی ذمہ داری ہاکی فیڈریشن، ٹیم مینجمنٹ اور کھلاڑیوں تینوں پر ہے۔ ہالینڈ میں ہونے والے جونئر ورلڈ کپ میں ساتویں پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم کے ساتھ چیف کوچ طاہر زمان واپس نہیں آئے تھے۔ ان کی عدم موجودگی میں متعدد سابق المپئنز نے ان کو جونئر ورلڈ کپ میں شکست کا ذمہ دار ٹہھرایا۔ طاہر زمان نے کہا کہ اپنے پول میں ہمیں جرمنی کے خلاف جیتنا چاہیے تھا تاہم ہم وہ میچ دو صفر سے ہار گئے۔ جرمنی کے خلاف اس میچ میں کھلاڑیوں نے گیم پلان کے مطابق کھیل پیش نہیں کیا۔ طاہر زمان کے مطابق عام طور پر جب ٹیم ہارتی ہے تو اس کی ذمہ داری مینجمنٹ پر ڈال دی جاتی ہے تاہم اگر ٹیم ہی میدان میں اچھا نہ کھیلے تو مینجمنٹ کیا کرے۔ طاہر زمان نے کہا کہ ورلڈ کپ میں ہماری ٹیم کا ایک اہم ہتھیار پینلٹی کارنر پر گول کرنا تھا تاہم ہم حاصل کردہ پینتالیس پینیلٹی کارنرز میں سے صرف دس پر گول کر سکے۔ ورلڈ کپ میں ٹیم کی فٹ نس اسی فیصلے کے سبب متاثر ہوئی اور جن کھلاڑیوں نے ازلان شاہ میں اچھی کارکردگی دکھائی تھی وہ ورلڈ کپ میں بہتر کھیل کا مظاہرہ نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس لحاظ سے ورلڈ کپ میں ناکامی کی ذمہ داری ہم سب پر ہے۔ البتہ اس ناکامی پر جس قسم کی تنقید ہوئی وہ درست نہیں انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والوں نے تنقید برائے تنقید کی اور صرف ان کی ذات کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان سابق کھلاڑیوں کا یہ کہنا کہ ٹیم کے ہارنے سے ہاکی دس سال پیچھے چلی گئی ہے تو کوئی یہ بتائے کہ کتنے سال سے ہماری ٹیم کوئی بڑا ٹورنامنٹ نہیں جیتی ٹیم پہلے کون سی آگے تھی جو اب پیچھے جائے گی۔ طاہر زمان نے تنقید کرنے والوں سے پوچھا کہ انہوں نے اب تک پاکستان میں ہاکی کی ترقی میں کون سا کردار ادا کیا ہے ؟ طاہرزمان نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ٹیم میں کوئی گروپنگ تھی یا وہ کچھ کھلاڑیوں کو خاص سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کوچ کے لیے سب کھلاڑی برابر ہوتے ہیں۔ طاہر زمان نے کہا کہ اگر پاکستان میں ہاکی کو دوبارہ زندہ کرنا ہے تو طویل المعیاد منصوبہ بندی کرنی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے ملک میں کوچنگ کی کوئی بھی آفر قبول ہو گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||