سپر ہاکی لیگ کا رنگارنگ میلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے بعد پاکستان نے بھی ہاکی لیگ کے ذریعے ملک میں اس کھیل کو مقبول بنانے اور کھلاڑیوں کو بھرپور مواقع فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی لیگ جسے سپر ہاکی لیگ کا نام دیا گیا ہےآٹھ سے اٹھارہ ستمبر تک کراچی کے ہاکی کلب آف پاکستان اسٹیڈیم میں کھیلی جائے گی جس میں بھارت کے چھ کھلاڑی بھی حصہ لے رہے ہیں۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری بریگیڈئر ( ریٹائرڈ) مسرت اللہ خان کا سپر ہاکی لیگ کے بارے میں کہنا ہے کہ سنگل لیگ کی بنیاد پر اس میں پندرہ میچز ہونگے جبکہ پوزیشنز کے تین میچز اس کے علاوہ ہیں۔ تمام میچز فلڈ لٹ ہونگے جنہیں سرکاری ٹی وی براہ راست دکھائے گا۔ ہر میچ میں دو کے بجائے تین ہاف ہونگے اور ہر میچ کو فیصلہ کن بنایا جائے گا۔ مسرت اللہ خان نے بتایا کہ اس سپر ہاکی لیگ میں بھارت کے چھ کھلاڑی بھی حصہ لے رہے ہیں ہر کھلاڑی کو ایک ایک ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ سندھ قلندر میں دلیپ ٹرکی شامل ہیں اس ٹیم کے کپتان احمد عالم ہیں۔شان پنجاب میں سندیپ سنگھ ہیں اس ٹیم کی قیادت محمد ثقلین کرینگے۔ فرنٹیئر فالکنز کے مہمان کھلاڑی ویرن رسکینا ہیں اور یہ ٹیم رحیم خان کی قیادت میں میدان میں اترے گی۔ بھارتی گول کیپر ایڈرین ڈی سوزا کو محمد سرور کی قیادت میں کھیلنے والی بلوچ لائنز میں رکھا گیا ہے۔ نادرن کیویلیئرز کے کپتان ندیم اینڈی ہیں اس ٹیم میں بھارت کے ارجن ہلپا ہیں۔ کیپٹل ڈائناموز میں گگن اجیت سنگھ شامل ہیں اس کے کپتان مدثرعلی خان ہیں۔ سپرلیگ کی مجموعی انعامی رقم باون لاکھ روپے ہے۔ فاتح ٹیم کو دس لاکھ روپے ملیں گے جبکہ آخری نمبر پر آنے والی ٹیم بھی ایک لاکھ روپے کی حقدار ہوگی۔ انفرادی کارکردگی پر بھی انعامات رکھے گئے ہیں جن میں ہر میچ کا مین آف دی میچ ایوارڈ دس ہزار روپے۔ لیگ کے بہترین کھلاڑی کو ایک لاکھ روپے۔ لیگ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی اور بہترین گول کیپر کو پچاس پچاس ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ ہر بھارتی کھلاڑی کو پاکستان ہاکی فیڈریشن ڈھائی ہزار ڈالرز دے گی۔ پی ایچ ایف کے سیکریٹری نے کہا کہ لیگ میں شائقین کی دلچسپی کے لیے بھی لوازمات رکھے گئے ہیں جن میں روزانہ قرعہ اندازی کے ذریعے انعامات اور فوڈ اسٹریٹ قابل ذکر ہیں۔ بریگیڈئر مسرت اللہ نے ان اطلاعات کو غلط قرار دیا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن اس لیگ کے لیے یورپین کھلاڑیوں کو حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ پی ایچ ایف نے صرف بھارتی ہاکی فیڈریشن سے ہی رابطہ کیا کیونکہ یہ سپر ہاکی لیگ کا پہلا سال ہے اور یورپی کھلاڑیوں کے حصول کے لیے بھاری رقم درکار ہوتی لیکن آئندہ سال بھارت کے علاوہ بھی دوسرے ممالک کے کھلاڑیوں کو لیگ میں شامل کیا جائے گا۔ بریگیڈئر ( ریٹائرڈ ) مسرت اللہ خان نے ریٹائرڈ کھلاڑیوں احمد عالم، ندیم اینڈی، رحیم خان اور محمد سرور کو لیگ میں مختلف ٹیموں کا کپتان بنائے جانے کے اعتراض پر کہا کہ ان کھلاڑیوں کی پاکستانی ہاکی کے لیے خدمات ہیں اور یہ کھلاڑی اسوقت اپنے اداروں کی ٹیموں کی طرف سے بھی کھیل رہے ہیں اس لیے انہیں لیگ میں شامل کیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||