’کراچی کا سمندر دیکھنا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی پہلی ہاکی لیگ میں حصہ لینے کے لیے آئے ہوئے بھارتی مڈفیلڈر ویرن رسکیونا کراچی کے ساحل سمندر کی سیر کے بغیر وطن واپس نہیں جانا چاہتے اور وہ اس مرتبہ بھرپور شاپنگ کے موڈ میں بھی ہیں۔ ممبئی سے تعلق رکھنے والے24 سالہ ویرن رسکیونا اس سے قبل پاک بھارت ہاکی سیریز اور چیمپئنز ٹرافی کھیلنے پاکستان آ چکے ہیں لیکن دونوں مرتبہ بے پناہ مصروفیت اور کم وقت ہونے کے سبب وہ کراچی کے ساحل پر نہ جا سکے اور نہ ہی شاپنگ کا لطف اٹھا سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ کچھ دوستوں کے ٹیلی فون نمبر ان کے پاس تھے جو گم ہوگئے لیکن انہیں امید ہے کہ اس کے باوجود وہ سیر میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ویرن رسکیونا کا کہنا ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کا کریئر اس وقت تک مکمل نہیں جب تک وہ پاکستان میں ہاکی نہ کھیلے۔ پاک بھارت مقابلوں کا اپنا منفرد انداز ہے اوراس کی اپنی کشش ہے۔ ایتھنز اولمپکس اور بوسان ایشین گیمز کے علاوہ تین چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کی نمائندگی کرنے والے رسکیونا کا کہنا ہے کہ پاکستانی لیگ کھیل کر انہیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا وہ اپنی ٹیم فرنٹیئر فالکنز کے کوچ قمرابراہیم سے متاثر ہوئے ہیں۔ کھلاڑیوں نے بھی انہیں والہانہ انداز میں خوش آمدید کہا ہے گوکہ انہیں کمبائنڈ پریکٹس کے لئے صرف دو دن ملے لیکن انہیں یقین ہے کہ وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ ویرن رسکیونا کہتے ہیں کہ ان کی فیملی میں کسی نے ہاکی نہیں کھیلی لیکن کھیلوں سے دلچسپی رہی ہے۔ انہوں نے جس اسکول میں تعلیم حاصل کی وہ ہاکی سے وابستگی رکھنے والے سرفہرست اسکولوں میں سے ایک ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کس کھلاڑی کو آئیڈیل بنایا تو ویرن رسکیونا نے دھنراج پلے، سابوورکے اور مکیش کمار کے نام لیے۔ ویرن رسکیونا کے علاوہ پاکستانی ہاکی لیگ میں حصہ لینے والے دیگر بھارتی کھلاڑی کپتان دلیپ ٹرکی، گگن اجیت سنگھ، ایڈرین ڈی سوزا، سندیپ سنگھ اور ارجن ہلپا شامل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||