انگلینڈ پاکستان: 68۔69 کرکٹ سیریز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ کی ٹیم کا 69 ۔1968 میں پاکستان کا دورہ ایک بار پھر تنازعے سے خالی نہیں رہا۔ کولن کاڈرے کی قیادت میں جب لاہور اور ڈھاکہ کا دونوں ٹیسٹ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہو گیا تو خیال یہی تھا کہ کراچی کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں فیصلہ ضروری ہو گا۔ انگلینڈ کے کھلاڑیوں کو یہ خدشہ ضرور تھا کہ کراچی میں فضا سازگار نہیں کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کراچی کے حنیف محمد کو کپتان بنانے کے بجائے لاہور کے بیٹسمین سعید احمد کو قیادت دیدی تھی۔ حنیف محمد، سعید احمد سے بہت سینئر تھے اور دنیا کے عظیم بیٹسمین سمجھے جاتے تھے۔ جیسا کہ انگلینڈ کے کھلاڑیوں کو خدشہ تھا وہی ہوا۔ ٹاس جیت کر انگلینڈ نے جب پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا تو اوپنگ بیٹسمین کولن ملبورن نے139 رن بنا دیے اور ٹوم گریونے جو کہ آج کل ایم سی سی کے صدر ہیں انہوں نے 195 رن بناتے ہوئے پاکستان کے بالروں انتخاب عالم، آصف مسعود، ماجد خان کے چھکے چھڑا دیے۔
انگلینڈ کے 502 کے اسکور پر سات کھلاڑی آؤٹ تھے اور وکٹ کیپر ایلن کنوٹ چھیانوے رنز بنا کر کھیل رہے تھے اور اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری بنانے کر کٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب بلوہ ہونے کی وجہ سے ٹیسٹ میچ ختم کیا گیا تھا۔ انگلینڈ کے بیٹسمین کولن ملبورن انگلینڈ آنے کے بعد ایک کار کے حادثے میں اپنی آنکھ گنوا بیٹھے۔ وہ کچھ عرصہ اور کھیلے لیکن انہیں موت نے آ دبوچا۔ ایم سی سی کے موجودہ صدر ٹوم گریونے کراچی میں آخری ٹیسٹ سنچری بنائی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||