’فیلڈروں نے ہمارا ساتھ نہیں دیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کو پاکستان ٹیم کے کپتان انضمام الحق اپنے فیلڈروں کی کارکردگی پر خاصے سیخ پا تھے کیونکہ ان فیلڈروں نے فیصل آباد ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے کچھ یقینی کیچ چھوڑے۔ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے تیسرے دن کے کھیل کے خاتمے پر سات کھلاڑیوں کے نقصان پر تین سو اکانوے رنز بنائے۔ انگلینڈ کے اس سکور میں آئن بیل اور کیون پیٹرسن کے درمیان ہونے والی ایک سو چون رنز کی شراکت شامل تھی جبکہ اس لمبی پارٹنرشپ میں پاکستانی فیلڈروں کا بھی ہاتھ تھا۔ منگل کے دن کے آغاز ہی میں جب آئن بیل صرف اڑتیس سکور پر کھیل رہے تھے پاکستان کے وکٹ کیپر نے دانش کنیریا کی گیند پر انہیں سٹمپ آؤٹ کرنے کا ایک موقع گنوا دیا۔ پیٹرسن جب چونسٹھ کے سکور پر تھے تو دانش کنیریا نے آفریدی کی گیند پر ان کا ایک یقینی کیچ چھوڑا۔ آئن بیل کو نوے کے سکور پر ایک اور زندگی ملی جب سلمان بٹ نے رانا نوید الحسن کی گیند پر کیچ چھوڑا۔ پاکستان کے کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ فیلڈنگ کے لحاظ سے یہ ایک برا دن تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے بالرز نے تو اچھی بانلگ کی لیکن ہمارے فیلڈروں نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔‘ انضمام کے مطابق فیلڈروں کی اسی کارکردگی کے سبب اس وقت پاکستان انگلینڈ سے برابری پر ہے جبکہ کل تک پاکستانی ٹیم کی پوزیشن مضبوط تھی۔ انضمام کے مطابق اگر چوتھے دن ’ہم نے بیس یا تیس رنز دے کر انگلینڈ ٹیم کی بساط لپیٹ دی تو ہماری پوزیشن بہتر ہو سکتی ہے کیونکہ پانچویں دن وکٹ سپنرز کے لیے بہت سازگار ہوگی اور اپنی دوسری انگز میں انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے لیے سپنرز کو کھیلنا بہت مشکل ہو گا۔‘ کیون پیٹرسن نے بھی میچ کے بعد صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیچ ڈراپ ہونے سے اگرچہ انہیں فائدہ ہوا لیکن یہ سب کچھ بھی کھیل کا حصہ ہے۔ | اسی بارے میں انگلینڈ کے رویے پر پاکستان کا احتجاج22 November, 2005 | کھیل ’آفریدی کے نہ ہونے سے فرق پڑے گا‘22 November, 2005 | کھیل بیل کی سینچری، فلنٹاف آؤٹ22 November, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||