انگلش رویے پر پاکستانی احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاک انگلینڈ کرکٹ سیریز کے دوران انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ جارحانہ رویے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئر مین شہر یار خان نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے صدر احسان مانی سے ٹیلیفون پر احتجاج کیا ہے۔ اپنی اس غیر رسمی بات چیت میں شہر یار خان نے احسان مانی کو بتایا کہ انگلینڈ کے کھلاڑی دانستہ طور پر پاکستانی کھلاڑیوں کی جانب اس طریقے سے گیند پھینکتے ہیں جن سے ان کے زخمی ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس ضمن میں شہر یار خان نے دو آسٹریلوی ایمپائرز سائمن ٹافل اور ڈیرل ہئر کے رویے پر تنقید کی کہ وہ انگلینڈ کے کھلاڑیوں کو سرزنش نہیں کر رہے۔ شہر یار خان نے خاص طور پر انضمام الحق کے رن آؤٹ کا ذکرانٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے صدر سے کیا اور کہا کہ کل انضمام نے ہارمیسن کی تیز تھرو سے خود کو بچانے کی کوشش کی اور بجائے اس کے کہ ایمپائرز ہارمیسن کو تنبیہ کرتے انہوں نے آئی سی سی کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انضمام کے رن آؤٹ کے فیصلے کے لیے تھرڈ ایمپائر کو کہا جس نے انضمام کو رن آؤٹ قرار دیا۔ شہر یار خان نے آئی سی سی کے صدر سے اپنے اس غیر رسمی احتجاج میں محمد یوسف کے آؤٹ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ جبکہ محمد یوسف جو کہ اٹھتر کے سکور پر کھیل رہے تھے ان کا کیچ آئن بیل نے اپنی گیند پر لیا۔ یہ کیچ بھی متنازعہ تھا کیونکہ ٹی وی پر دکھائے جانے والے ایکشن ریپلے کے مطابق گیند کیچ ہونے سے پہلے زمین سے ٹکرائی تھی لیکن ایمپائر نے ٹی وی ایمپائر کو رجوع کیے بغیر خود ہی فیصلہ محمد یوسف کے خلاف دے دیا۔ انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے رویے پر پاکستان کرکٹ بورڈ سے کوئی رسمی یا غیر رسمی احتجاج نہیں کیا اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ پی سی بی انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو ناراض نہیں کرنا چاہتا تاکہ انہیں کوئی ایسا موقع نہ مل سکے کہ وہ کراچی میں ایک روزہ میچ سے انکار کر دیں۔ شاہد آفریدی کے بوٹوں سے پچ خراب کرنے کے واقعے کہ جس پر انہیں ایک ٹیسٹ میچ اور دو ون ڈے کی پابندی کی سزا بھی مل چکی ہے پاکستان کرکٹ بورڈ کا مؤقف ہے کہ وہ میچ کے بعد خود بھی اس پر آزادانہ تحقیق کروائے گا۔ |
اسی بارے میں ’انضمام کا رن آؤٹ متنازعہ تھا‘21 November, 2005 | کھیل پچ خراب کرنے کی سزا21 November, 2005 | کھیل ’جگہ ہے مگر پولیس جانےنہیں دیتی‘21 November, 2005 | کھیل انضمام نےمیانداد کا ریکارڈ برابرکردیا21 November, 2005 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||