سلمان بٹ سےسیکھیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ کو یقین ہے کہ وہ ہر مشکل سے نکل سکتا ہے اور دیکھا جائے تو یہ سچ بھی ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں اس نے کئی ہارے ہوئے میچ جیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ اس دفعہ پاکستان کے خلاف پہلا ٹیسٹ ہارنے کے بعد انگلینڈ خاصی مشکل میں ہے اور اگر وہ دوبارہ اندھا دھند بیٹنگ کرتا ہے تواس کے لیے مزید شکست سے بچنا مشکل ہو جائے گا۔ ملتان کی فلیٹ پچ پر بالروں نے اپنا کام کیا اور میچ جیت لیا۔ اگرچہ پاکستان کی طرف سے آغاز اچھا تھا لیکن ساڑھے تین دن تک میچ انگلینڈ کے ہاتھ میں تھا۔ انگلینڈ کے بلے بازوں کو صرف پاکستانی بالروں کو تھکانا تھا اور وکٹ پر رکے رہنا تھا۔ انہیں رنز کے پیچھے تو بھاگنا ہی نہیں تھا۔ انیڈریو فلنٹوف، کیون پیٹرسن، پال کالنگوڈ اور این بیل- سب کے سب جارحانہ شارٹ لگاتے ہوئے آؤٹ ہوئے۔ یہ لوگ لیگ سپنر دانش کنیریا کو پڑھ ہی نہیں پائےحالانکہ یہ لوگ شین وارن کے خلاف ایک پوری سیریز کھیل چکے ہیں۔ ان لوگوں نے بلے بازی میں ایک ہی طریقہ اپنائے رکھا اور حالات کے تقاضے کو سامنے نہیں رکھا اور نہ ہی تحمل کا مظاہرہ کیا۔ آخری بلے بازوں نے اپنی ذمہ داری نبھائی لیکن آپ ان سے رنز بنانے کی امید تو نہیں کر سکتے۔ ان سے امید ہی یہی کی جاتی ہے کہ وہ سپنر کو نہیں سمجھ سکیں گے اور شان اوڈال کی طرح گگلی کے ہتے چڑہ جائیں گے یا ایشلے جائلز کی طرح نوے میل کی رفتار پر آتے ہوئے یارکر کو آگے بڑھ کر کھیلنے کی کوشش کریں گے۔ آپ یہ توجیح دے سکتے ہیں کہ ٹاپ آرڈر کے بلے بازوں تو کھیلتے ہی ایسے ہیں اور اسی طرح کئی میچ بھی جتوا چکے ہیں لیکن میرا خیال ہے یہ اس وقت ہوتا ہے جب ایک سست رفتار بلے باز وکٹ کی ایک سائیڈ سنبھالے رکھے اور دوسری جانب دوسرا بلے باز تیز رفتار بیٹنگ کرے۔ ایک اچھا کرکٹر وہ ہوتا ہے جو سوچ سمجھ کر کھیلے لیکن گزشتہ ہفتے انگلینڈ کی طرف سے یہ کام کم ہی کیا گیا۔ آپ پر لازم ہے کہ آپ بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق اپنے کھیل کو ڈھالیں، چاہے وہ پچ ہو، مخالف ٹیم ہویا خود میچ کی بدلتی ہوئی شکل۔
اور اگر انگلینڈ کی ٹیم مقامی موسمی حالات میں خود کو ایڈجسٹ نہیں کر پائی تھی تو اسےچاہیے تھا کہ ٹیسٹ سے پہلے زیادہ آزمائشی میچ کھیلتی۔ اور نہیں تو انگلینڈ کو پاکستانی اوپنر سلمان بٹ سے ہی کچھ سیکھ لینا چاہیے تھا کہ وہ کس سلیقے سے کھیلے۔ سلمان بٹ بنیادی طور پر ایک سٹروک پلیئر ہیں لیکن انہوں نے باب وولمر کی سنی اور آرام سے کھیلے۔ سلمان بٹ نے اپنی اننگز کا آغاز اس وقت کیا جب پاکستان 144 رنز کے خسارے میں تھا لیکن انہوں نے گیند کی پٹائی نہیں کی بلکہ ہر بال کو دیکھ بھال کر کھیلا۔ انگلینڈ کی بلے بازی پچھلے دو سال سے ڈانواں ڈول رہی ہے لیکن اس کے پاس ہمیشہ ایک بلے باز ایسا رہا ہے جس نے بڑا سکور کیا، جیسے ٹریکوتھک نے ملتان ٹیسٹ کی پہلی اننگزز میں کیا۔ ملتان ٹیسٹ میں تیز بالر ہی کامیاب رہے اور ان کی کارکردگی ایک مرتبہ پھر ابھر کر سامنے آئی اوربیس میں سے اٹھارہ پاکستانی وکٹیں فلنٹوف، میتھیوہوگارڈ اور سٹیون ہامسن کے ہاتھ آئیں۔ جہاں تک دوسرے ٹیسٹ کے لیے ٹیم کا سوال ہے تو اگر مائیکل وان فِٹ ہیں تو وہ پال کالنگوڈ کی جگہ لے لیں گے۔ ویسے بھی لگتا ہے کہ ٹیسٹ میچ ابھی تک کالنگوڈ کے بس کی بات نہیں۔ وہ دو اننگزز لارڈز کے میدان میں اور دو ملتان میں کھیل چکے ہیں لیکن لگتا ہے وہ ٹیم میں جگہ نہیں بنا سکے کیونکہ ابھی تک وہ دس سے زیادہ سکور نہیں کر پائے۔ اگر میں پاکستان ہوتا تو میری کوشش ہوتی کہ اگلے دونوں ٹسیٹ ڈرا نہ کروں اور ملتان میں لگائے گئے زخموں پر نمک چھڑکوں۔ پاکستان کے پاس شاہد آفریدی ہیں جو کہ خاصی تیز سپن کراتے ہیں اور جس طرح انگلینڈ کے بلے باز کنیریا کو کھیل رہے تھے تو میرا خیال ہے اگر آفریدی ہوتے تو ملتان ٹیسٹ کا فیصلہ اس سے بھی جلدی ہوجاتا۔ انگلینڈ سیریز میں واپس آنے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ وہ اس کا مظاہرہ ماضی میں کئی دفعہ کر چکا ہے اور حالیہ کامیابیوں کے بعد ٹیم خاصی پر اعتماد بھی ہے لیکن سو باتوں کی ایک ہی بات ہے اور وہ یہ کہ برطانوی بلے بازوں کو کام کرنا پڑے گا۔ | اسی بارے میں پاکستان کے لیے میچ بچانا مشکل ہو گا13 November, 2005 | کھیل بٹ کی عمدہ بیٹنگ مگر دباؤ برقرار14 November, 2005 | کھیل سلمان بٹ: ایک دن کے بہتر کھلاڑی15 November, 2005 | کھیل پاکستان نے ملتان ٹیسٹ جیت لیا16 November, 2005 | کھیل ملتان ٹیسٹ میں انضمام کےلئے چیلنج11 November, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||