ملتان ٹیسٹ میں انضمام کےلئے چیلنج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم ہفتے کوملتان میں انگلینڈ کے خلاف سیریز کا پہلا ٹیسٹ کھیلنے میدان میں اترے گی تو کپتان انضمام الحق کے لئے دو پہلو خاص توجہ کے لائق ہونگے۔ انضمام الحق کو اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کے دورے کے بعد سے بین الاقوامی کرکٹ سے دور ہے اور انگلینڈ جیسی ٹیم کے خلاف سیریز ان کی بہت بڑی آزمائش ہے۔ دوسرا پہلو یہ کہ پاکستانی ٹیم کا ہوم گراؤنڈ پر حالیہ ریکارڈ متاثرکن نہیں ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو سات سال کے دوران اپنے ملک میں کھیلی گئی آٹھ میں سے پانچ ٹیسٹ سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ صرف بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ کے خلاف اس عرصے میں پاکستانی ٹیم سیریز جیتنےمیں کامیاب ہوسکی ہے۔ انضمام الحق انگلینڈ کے خلاف جیت سے اس جمود کو توڑنا چاہتے ہیں لیکن وہ حقیقت پسندی سے کہتے ہیں کہ جیت کے لئے پاکستانی ٹیم کو غیرمعمولی پرفارمنس دینا ہوگی کیونکہ انگلش ٹیم صرف ایشیز پر ہی موقوف نہیں بلکہ حالیہ چند برسوں سے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ پاکستانی کپتان کو اپنی ٹیم کی صلاحیتوں پر بھروسہ ہے جو تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔اس کے علاوہ انضمام خوداپنی اس شاندار بیٹنگ فارم کو جاری رکھنا چاہتے ہیں جس نے انہیں بھارت اور ویسٹ انڈیز میں جیت سے ہمکنار کیا۔ ان کی فارم پر پوری ٹیم کی کارکردگی کا بڑا انحصار ہوگا۔ ملتان انضمام الحق کا اپنا شہر ہے جہاں انہوں نے تین ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں جن میں ان کی دو سنچریاں اور ایک نصف سنچری ہے۔ ملتان اسٹیڈیم کی وکٹ دیکھتے ہوئے انضمام الحق نے تین تیز اور دو اسپن بالروں کی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مشتاق احمد اور شاہد آفریدی حتمی الیون میں نہیں ہیں اور اسپن کا شعبہ دانش کنیریا اور شعیب ملک سنھبالیں گے۔ شعیب ملک کو اس ٹیسٹ میں سلمان بٹ کے اوپننگ پارٹنر کے طور پر بھی شامل کیا گیا ہے۔ پاکستان اے کی طرف سے حالیہ کارکردگی اور چند روز قبل لاہور میں انگلینڈ کے خلاف سہ روزہ میچ میں عمدہ بیٹنگ نے حسن رضا پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھول دیے ہیں۔ وہ آؤٹ آف فارم عاصم کمال کی جگہ چھٹے نمبر کے بیٹسمین کی حیثیت سے ٹیسٹ کھیلیں گے۔ پاکستانی پیس اٹیک میں رانا نوید الحسن یا محمد سمیع میں سے کوئی ایک شعیب اختر اور شبیراحمد کے ساتھ ٹیم میں جگہ بنائے گا۔ یہ سیریز شعیب اختر کے لئے بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے جو بھارت اور ویسٹ انڈیز کے خلاف دو بڑی سیریز نہ کھیلنے کے بعد سلیکٹرز اور کپتان کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ سیریز ان کے مستقبل کا تعین کرے گی۔ انگش ٹیم کو مائیکل وان کی کمی شدت سے محسوس ہوگی جو لاہور کے سہ روزہ میچ میں گھٹنہ مڑجانے کے سبب ان فٹ ہوگئے تھے اور ان کی جگہ مارکس ٹریسکوتھک کو قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ انگلش بیٹنگ ٹریسکوتھک، اسٹراس، فلنٹوف اور کیون پیٹرسن جیسے خطرناک بیٹسمینوں کی موجودگی میں مضبوط ہے جبکہ بولنگ میں اسے ہارمیسن، فلنٹوف ہوگرڈ اور جائلز کی خدمات حاصل ہے۔ مائیکل وان کے ان فٹ ہونے کے بعد ایسیکس کے بیس سالہ بیٹسمین الیسٹر کک کو طلب کیا گیا ہے۔ ملتان ٹیسٹ کے امپائرز نیوزی لینڈ کے بلی باؤڈن اور آسٹریلیا کے سائمن ٹافل ہیں میچ ریفری سری لنکا کے روشن مہانامہ ہیں۔ | اسی بارے میں انضمام الحق باکمال فنکار10 November, 2005 | کھیل کامران اکمل، گلوز اور بیٹ پر مکمل دسترس10 November, 2005 | کھیل تاریخ پیدائش صحیح ہے: رضا10 November, 2005 | کھیل فلنٹوف بننا چاہتا ہوں: آفریدی10 November, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||