کامران اکمل، گلوز اور بیٹ پر مکمل دسترس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اسے ہر دور میں اعلی پائے کے چاق و چوبند وکٹ کیپرز کی خدمات حاصل رہی ہیں۔ امیتاز احمد، وسیم باری، معین خان اور راشد لطیف کی شاندار روایت کو اب نوجوان کامران اکمل آگے بڑھا رہے ہیں۔ کامران اکمل کو دو سال قبل پاکستانی ٹیم میں آنے کا موقع ملا تھا لیکن وہ مستقل جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے لیکن اب جبکہ معین خان اور راشد لطیف کے بجائے کسی نوجوان وکٹ کیپر پر اعتماد کی پالیسی اختیار کی گئی ہے کامران اکمل نے ملنے والے موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا ہے اور ان کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آئی ہیں۔ عصرحاضر کی کرکٹ میں اسی وکٹ کیپر کی اہمیت ہے جو کیپنگ کے ساتھ ساتھ بیٹنگ میں بھی کچھ کردکھانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایڈم گلکرسٹ اور کمار سنگاکارا اس کی بڑی مثالیں ہیں۔ کامران اکمل نے گلوز کے ساتھ ساتھ بیٹ پر بھی مکمل دسترس کا ثبوت دیا ہے۔ گزشتہ ورلڈ سیریز میں کامران نے ویسٹ انڈیز کے خلاف اوپنر کی حیثیت سے کھیلتے ہوئے شاندار سنچری بنائی تھی۔ بھارت کے خلاف موہالی ٹیسٹ میں پاکستان کی ممکنہ شکست کو ڈرا میں تبدیل کرنے میں کامران اکمل اور عبدالرزاق کی شاندار بیٹنگ نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ کامران نے اس اننگز میں اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری اسکور کی تھی۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ کی سیریز میں کامران اکمل نے شاندار وکٹ کیپنگ کرتے ہوئے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں سب سے زیادہ کیچز اور اسٹمپڈ کا نیا ورلڈ ریکارڈ بھی قائم کیا جو اس سے قبل آسٹریلوی وکٹ کیپر کیون رائٹ کے پاس تھا۔ انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز میں بھی کامران اکمل اپنے بھرپور اعتماد کے ساتھ عمدہ کارکردگی دکھانے کے لیے تیار ہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||