تاریخ پیدائش صحیح ہے: رضا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حسن رضا نے آج سے نو سال قبل پاکستان کے دور ے پر آئی ہوئی زمبابوے کی ٹیم کے خلاف فیصل آباد میں ٹیسٹ کیپ حاصل کی تو وہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں کیپ حاصل کرنے والے سب سے کم عمر کرکٹر تھے اسوقت ان کی عمر14 سال227 دن تھی اسطرح انہوں نے اپنے ہی ہم وطن مشتاق محمد کے ریکارڈ کو توڑا تھا جو اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلتے وقت15 سال124 دن کے تھے۔ ستم ظریفی کہ حسن رضا کا یہ عالمی ریکارڈ آج تک شک وشبے کی تہہ میں دبا ہوا ہے۔ کرکٹ کی بائبل وزڈن میں اس ریکارڈ کا اندراج ضرور ہوا ہے لیکن ان کلمات کے ساتھ کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس کی صحت پر شک ہے۔ حسن رضا کے اس عالمی ریکارڈ کے بارے میں دنیائے کرکٹ شک و شبے میں مبتلا پاکستان کرکٹ بورڈ کے اسوقت کے ایک اعلی افسر کے ایک اخباری بیان کی وجہ سے ہوئی تھی جن کا یہ خیال تھا کہ پاکستانی کرکٹرز عام طور پر اپنی عمر چھپاتے ہیں۔ عام طور پر کسی بھی شخص کی تاریخ پیدائش کی تصدیق پیدائشی سرٹیفیکیٹ سے ہوتی ہے اور پھر میٹرک سرٹیفیکیٹ میں درج تاریخ پیدائش ہی کو تسلیم کیا جاتا ہے یہ پاکستان میں عام اور مروجہ بات ہے۔ حسن رضا کی تاریخ پیدائش11 مارچ 1982ء ہے جو ان کے پرائمری اور سیکنڈری سکول کے رجسٹر پر درج ہے۔
جب حسن رضا نے ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز کرتے ہوئے سب سے کم عمر ٹیسٹ کرکٹر ہونے کا منفرد اعزاز حاصل کیا تو ان کی صحیح عمر کی تصدیق کے لیے پاکستان ایسوسی ایشن آف کرکٹ سٹیٹیشن اینڈ سکوررز کے نمائندے نعمان بدر نے حسن رضا کے اسکول جا کر ان کی عمر کی جانچ پڑتال کی اور پرائمری اور سیکنڈری دونوں سیکشن کے رجسٹروں پر یہی تاریخ پیدائش درج تھی جو حسن رضا بتاتے ہیں۔ اس بار ے میں نعمان بدر کا تبصرہ بہت دلچسپ ہے کہ ’سکول میں داخلہ کراتے وقت حسن رضا کے والد کو کیسے پتہ ہوسکتا تھا کہ ان کا بیٹا آگے چل کر ٹیسٹ کرکٹ کھیلے گا لہذا عمر کم کرکے بتائی جائے‘۔ نعمان بدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس ضمن میں وزڈن کو حسن رضا کی تمام دستاویزات بھیجی تھیں لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی لیکن وہ دوبارہ تمام ریکارڈ وزڈن کو بھیجیں گے۔ حسن رضا کا کہنا ہے کہ جب دوسرے تمام کرکٹرز کی تاریخ پیدائش کو میٹرک یا پیدائشی سرٹیفیکیٹ کے مطابق تسلیم کیا جاتا ہے تو پھر ان کے ریکارڈ کو کیوں تسلیم نہیں کیا جاتا؟ وہ اپنے عالمی ریکارڈ کو شک و شبے سے آزاد کرنے کے سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ پر نگاہیں جمائے ہوئے ہیں اور انہیں توقع ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوششوں سے کرکٹ کی ریکارڈ بک میں ان کا یہ ریکارڈ کسی سوالیہ نشان کے بغیر جلد نظر آئے گا۔ | اسی بارے میں لاہور میں پاکستان اے کی شاندار فتح08 November, 2005 | کھیل میچ کا پہلا دن بالروں کے نام06 November, 2005 | کھیل پاکستانی کرکٹ ٹیم کا اعلان28 October, 2005 | کھیل عبدالرزاق پہلے ٹیسٹ سے باہر28 October, 2005 | کھیل قومی کیمپ کے ممکنہ کھلاڑی19 October, 2005 | کھیل پاکستان اے ٹیم کا اعلان05 September, 2005 | کھیل 20 کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ مِل گئے11 July, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||