پاکستانی کرکٹ ٹیم کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے سب سے کمر عمر کرکٹر حسن رضا تین سال اور لیگ اسپنر مشتاق احمد دوسال بعد سلیکٹرز کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ جمعہ کو انگلینڈ کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ میچوں کے لیے وسیم باری کی سربراہی میں قائم سلیکشن کمیٹی نے جن سولہ کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا ہے ان میں حسن رضا ڈومیسٹک کرکٹ اور مشتاق احمد کاؤنٹی کرکٹ کی شاندار کارکردگی کی بنا پر شامل کیے گئے ہیں۔ حسن رضا اکتوبر1996 میں زمبابوے کے خلاف فیصل آباد میں اپنا اولین ٹیسٹ 14 سال227 دن کی عمر میں کھیل کر ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے سب سے کمر عمر کھلاڑی بنے تھے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ان کی عمر کے بارے میں شک وشبہ ظاہر کئِے جانے کے سبب وہ ریکارڈ مشکوک بنا ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں حسن رضا نے پاکستان اے اور ڈومیسٹک کرکٹ کے میچوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرکے سلیکٹرز کو اپنے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ باب وولمر بھی ان کی کارکردگی سے بہت خوش دکھائی دیتے ہیں۔ مشتاق احمد دوسال قبل جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے لیے طویل غیرحاضری کے بعد ٹیم میں لائے گئے تھے لیکن مایوس کن کارکردگی نے انہیں ٹیم سے باہر کردیا اب ایک بار پھر کاؤنٹی کرکٹ کی پرفارمنس کی بنیاد پر انہیں سولہ رکنی اسکواڈ میں جگہ ملی ہے۔ فاسٹ بولر عمر گل جو اسوقت دیگر فاسٹ بولرز سے زیادہ اچھی کارکردگی دکھارہے ہیں حیرت انگیز طور پر ٹیم میں شامل نہیں کئے گئے ہیں۔ سلمان بٹ اور شعیب ملک کو اوپنر کی حیثیت سے ٹیم میں شامل کیا گیا ہے جبکہ عبدالرزاق کے ان فٹ ہونے کے بعد رانا نوید الحسن کو موقع دیا گیا ہے۔ پاکستان کا سولہ رکنی اسکواڈ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ انضمام الحق ( کپتان)، شعیب ملک، سلمان بٹ، یونس خان، محمد یوسف، عاصم کمال، حسن رضا، کامران اکمل، شاہد آفریدی، رانا نویدالحسن، محمد سمیع، شبیراحمد، شعیبب اختر، دانش کنیریا، مشتاق احمد اور ارشدخان۔ | اسی بارے میں وان کی ٹیم زخمی بچوں کے پاس گئی28 October, 2005 | کھیل عبدالرزاق پہلے ٹیسٹ سے باہر28 October, 2005 | کھیل وقار اور وسیم کے بعد کی تیز بولنگ28 October, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||