BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 November, 2005, 17:07 GMT 22:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انضمام الحق، پلئر آف دی ڈے کیوں؟

انضمام الحق
انضمام کے متنازعہ آؤٹ کے باوجود پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں 462 رنز بنا لیے
ہر میچ، ہر کھلاڑی، ہر کھیل انفرادیت کا خواہاں ہوتا ہے۔ مگر دو روز کے کھیل کے بعد فیصل آباد ٹیسٹ لگتا ہے کہ ایک خاص قسم کی انفرادیت کی جانب بڑھ رہا ہے۔

اب تک کے کھیل میں ایک نہیں دو نہیں چار ایسے dismissals ہو چکے ہیں جن میں بلے بازوں کو محسوس ہوا کہ شاید ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ سب سے پہلے محمد یوسف جن کا کیچ اتنا صاف نہیں تھا۔ پھر شاہد آفریدی بھی 92 کے سکور پر کچھ اسی قسم کے کیچ کا شکار ہوئے۔

انگلستان کی اننگز میں ان کے سب سے کامیاب بیٹسمین مارکس ٹریسکوتھک بھی شاید یہ سوال کرنا چاہیں گے کہ آیا کامران اکمل نے محمد سمیع کی گیند پر ان کا کیچ صاف طریقے سے پکڑا تھا یا پھر گیند زمین کو چھو گئی۔ ایان بوتھم کے بقول فیصل آباد ٹیسٹ کے تناظر میں ٹریسکو تھک آؤٹ تھے یعنی بوتھم اپنی غیر جانبداری نبھانے کے ساتھ ساتھ بہت کچھ کہہ گئے۔

فیصل آباد ٹیسٹ کے اب تک سب سے متنازعہ فیصلہ کا شکار بنے۔ پیر کے کھیل کے ہمارے کھلاڑی انضمام الحق مبصرین کے مطابق وہ کسی طرح آؤٹ نہیں تھے۔

ہرمیسن کی طرف سے انہیں رن آؤٹ کرنے کی کوشش کے وقت وہ اپنی کریز میں تھے اور اپنے بچاؤ کے لیے وکٹوں کے سامنے سے ہٹتے ہوئے ان کا دایاں پاؤں کریز سے ذرا آگے ، بلکہ ذرا اوپر سرک گیا۔

بات تیسرے امپائر ندیم غوری تک نہیں جانی چاہیے تھی۔ مگر بات ان تک پہنچی اور ان کے پاس انزی کو آؤٹ قرار دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ فیلڈ میں موجود امپائرز غوری سے کسی قانون کی تشریح نہیں چاہتے تھے۔ وہ محض یہ جاننا چاہتے تھے کہ آیا انضمام کا پیر کریز پر موجود ہے یا نہیں۔ غوری کے پاس جو شواہد تھے ان کے مطابق انضمام آؤٹ تھے یہ تو بعد میں مبصرین نے بتایا کہ کرکٹ کے قوانین کے مطابق وہ بلے باز جو کریز میں موجود ہے اور محض اپنے بچاؤ کے لیے کریز چھوڑنے پر مجبور ہو اسے آؤٹ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انضمام نے پیر کو فیصل آباد میں کئی عمدہ شارٹ کھیلے

انضمام کے متنازعہ آؤٹ کے باوجود پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں 462 رنز بنا لیے۔ یہ ایک اچھا ٹوٹل ہے اور شاہد آفریدی کی بدولت پاکستان یہ رنز خاصی تیز رفتاری کے ساتھ بنانے میں کامیاب رہا ہے۔

انضمام البتہ اپنے ساتھ ہونے والی ذیادتی پر خاصے غصے میں نظر آ رہے تھے۔ ایک ایسے دن جب انہیں پاکستان کے لیے سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا ریکارڈ برابر کرنے پر خوش ہونا چاہیے تھا۔

انضمام نے جاوید میاں داد کا 23 سینچریوں کا ریکارڈ برابر کر دیا ہے اور امید ہے وہ جلد ہی پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ سینکڑے بنانے والے کھلاڑی بن جائیں گے۔ ایسے موقع پر انضمام اور میاں داد کے کھیل کا تقابل ایک لازمی امر ہے۔

انضمام کو میاں داد کے مقابلے میں 23 سینچریاں بنانے میں 20 میچ کم لگے۔ اس پر انضمام کے پرانے دوست ( میاں داد کے پرانے ناقد) وقار یونس کا یہ کہنا ہے کہ انزی میاں داد سے بڑے کھلاڑی ہیں۔

وقار ٹی وی پر جوش جذبات میں یہ تک کہہ گئے کہ انضمام ابھی جوان ہیں اور انہیں ابھی بہت کرکٹ کھیلنی ہے۔ اگر چہ بعض لوگ بیچارے شان یوڈل کے 36 سال کی عمر میں ٹیسٹ کرکٹ میں آمد کو ویسے ہی سوالیہ انداز سے دیکھ رہے ہیں۔ یوڈل انزی کے ہم عمر ہیں یعنی خاصی کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔

مذاق اپنی جگہ مگر یہاں کہنا پڑے گا کہ ہمارے ماہرین نہ جانے کن مسائل کے زیر اثر بے لاگ سے زیادہ بے سرو پا تبصرے کرنے میں خدا جانے کیوں اتنے قادر ہیں۔ وقار کا تقاضہ یہ ہے کہ پرانے کھلاڑیوں کو ان کے وقت کے تناظر میں جانچا جائے مگر اس کا کیا کریں ابھی کل ہی ماضی کے ہمارے کامیاب اور کامراب بالر یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ جاوید میاں داد اتنا اچھا کھیل پاتے تھے کہ ان کے زمانے میں مخالف کپتان اتنی دفاعی فیلڈ کھڑی نہیں کرتے جس طرح کہ ماڈرن کرکٹ میں ہوتا ہے۔

سچ بات یہ ہے کہ انضمام ایک بہت بڑے کھلاڑی ہیں اور انہیں اپنی عظمت کے لیے گراؤنڈ سے باہر کسی دوست کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر جاوید میاں داد نے عمران خان کے ساتھ مل کر پاکستان کو دنیائے کرکٹ میں ایک طاقت کے طور پر منوایا تو انضمام نے اس پیش رفت میں ایک اہم کردار ادا کیا۔

ٹریسکوتھک بھی اکمل کے ہاتھوں کیچ ہونے پر مطمعن نہیں تھے

1992 ء کا ورلڈ کپ اس کی ایک اہم مثال ہے جہاں انضمام نے بہترین کھیل پیش کیا اور ان کے ساتھ میاں داد بھی خوب کھیلے۔

پھر انضمام ، وقار یونس کے ساتھ وہ کھلاڑی ہیں جو پاکستان کرکٹ کو کراچی اور لاہور سے آگے لے گئے۔ وہ خود ملتان سےتعلق رکھتے ہیں اور ان سے پہلے پاکستان ٹیم میں لاہور یا کراچی کے کھلاڑیوں کے علاوہ کسی کے پر مارنے کا سراغ نہیں ملتا۔ شاید ایک دو ایسے کھلاڑی ہوں جنہوں نے یہ جرات کی ہو مگر حقیقت میں یہ انضمام ہی ہیں جنہوں نے پاکستانی کرکٹ پر لاہور اور کراچی کی اجاہ داری ختم کی اور چھوٹے شہروں پر پاکستانی پویلین میں انہیں جگہ دلائی۔

66پلیئر آف دی ڈے
شان یوڈال کی شان میں آفریدی کی گستاخیاں
66’پلیئر آف دی ڈے‘
سلمان بٹ: ایک دن کے بہتر کھلاڑی
66’پلیئر آف دی ڈے‘
دوسرے دن کامرد میدان: مارکس ٹریسکوتھک
66’پلیئر آف دی ڈے‘
ملتان ٹیسٹ میں پہلے دن کا مرد میدان: فلنٹوف
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد