پلیئر آف دی ڈے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کہا جاتا ہے کہ کھلاڑی اس وقت کھیلتا ہے جب اسے کوئی دیکھنے والا ہو۔ فیصل آباد میں پاکستان اور انگلستان کے درمیان اتوار کو شروع ہونے والے میچ کو دیکھنے کے لیے تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ ان تماشائیوں کو پاکستانی بلے بازوں نے بالکل مایوس نہیں کیا۔ محمد یوسف، انضمام الحق اور پھر دن کے آخری لمحات میں شاہد آفریدی نے شاندار بیٹنگ کی اور پاکستان کا سکور چار وکٹوں کے نقصان پر تین سو رنز تک پہنچا دیا۔ جیسے جیسے کھیل آگے بڑھا ہمارے پلیئر آف دی ڈے کے خطاب کے لیے امیدواروں میں اضافہ ہوتا گیا۔ آغاز میں ایسا لگا کہ کی پاکستانی اوپنرز سلمان بٹ اور شعیب ملک میں سے ایک اس خطاب کا حقدار قرار دیا جا سکتا ہے۔ مگر پھر سلمان اپنی پرانی چھیڑ خانی کی عادت سے مجبور ہو کر ہارمسن کی گیند پر وکٹ کیپر کو کیچ پکڑا گئے۔ یونس خان آئے اور جلد ہی واپس چلے گئے اور جس وقت اینڈریو فلنٹوف نے کور میں شعیب ملک کا ایک ناقابل یقین کیچ پکڑا اس وقت یہ محسوس ہوا جیسے فلنٹوف، جسے پیار سے فریڈی کہا جاتا ہے، اپنے طول وعرض کے ساتھ میزبان ٹیم پر حاوی ہوا چاہتے ہیں۔ مگر بھلا ہو فیصل آباد کی پچ کا کہ اس نے مہمانوں کو اتنا موقع ہی نہیں دیا کہ وہ یہاں اپنے قدم جما سکیں۔ اس کے نتیجہ میں کپتان مائیکل وان کو پاکستان کو محدود کرنے کے لیے کافی سوچ وبچار کرنا پڑی۔ ان کی طرف سے کی گئی کسی قدر سرپرائز تبدیلیوں میں سے ایک اس وقت بار آور ثابت ہوئی جب این بیل جیسے ایک سرپرائز بالر نے محمد یوسف کو آؤٹ کر کے انگلستان کی میچ میں واپسی کی امید پیدا کی۔ ٹیلی ویژن ری پلے کی سہولت کے ساتھ یہ لگا کہ کہ شاید یوسف بد قسمت رہے اور وہ آؤٹ نہیں تھے۔ انہوں نے 78 رنز کی اچھی اننگز کھیل کر سیریز میں پہلی بار اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ محسوس یہ ہو رہا ہے کہ وہ پچھلے دنوں اپنی ذاتی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے کچھ دباؤ میں ہیں۔ پھر ان کے کندھے میں بھی لافی عرصےسے تکلیف ہے۔ شائقین کرکٹ جلد از جلد محمد یوسف کے فارم میں آنے کے منتظر ہیں کیونکہ وہ مانتے ہیں کہ ابھی ان میں کافی کرکٹ باقی ہے۔۔خوبصورت کرکٹ انضمام الحق نے اتوار کو اس سیریز میں اپنی تیسری نصف سنچری بنائی۔ وہ ہر اننگز اس طرح سے شروع کرتے ہیں جیسے گھر کا وہ بڑا بوڑھا جسے یہ علم ہو کہ چاہے بچے گھر کو چلانے میں جتنا بھی حصہ ڈالیں، اسے چلانے کی ذمہ داری بہرحال اسی کی ہے۔ اگر آپ کو اس مشاہدے سے اختلاف ہو تو اتوار کو ایک غلط شارٹ کے بعد انضمام کی شرمندگی کو یاد کیجیے۔ وہ اس وقت ستر سے زیادہ رنز بنا چکے تھے اور پھر بھی اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے۔
انہیں پتا تھا کہ پاکستان کی ٹیم میں کامران اکمل کے بعد ایسے کھلاڑیوں کی بہتات ہے جنہیں عرف عام میں ٹیل اینڈرز کہا جاتا ہے۔ ہمیں انضمام کے جھینپنے پر وہ بزرگ یاد آ گئے جو اپنے سامنے والے بچے کو شرارت سے باز رہنے کے لیے کہتے رہتے ہیں مگر پھر اچانک اسی بچے سے متاثر ہوکر خود ایک بچگانہ حرکت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ جی ہاں۔ انضمام کے سامنے شرارت سے پُر یہ بچہ شاید آفریدی ہی تھا۔ آفریدی نے آتے ہی تین مسلسل چوکوں کی مدد سے بیل کے امید افزا بالنگ کیریئر کو لگام لگا دی۔ اس کے بعد انہوں نے شان یوڈال کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے گیند کو کئی مرتبہ گراؤنڈ سے باہر پھینک دیا۔ چونتیس کے سکور پر کپتان مائیکل وان نے آفریدی کا کیچ تو گرایا مگر مجموعی طور پر آفریدی کی اننگز دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ خاص طور پر سٹیوہارمسن کو لگایا ہوا وہ چھکا جس سے آفریدی کے خطرناک عزائم کا اظہار ہوتا تھا۔ محمد یوسف، انضمام الحق، شاہد آفریدی۔ ہم ان میں سے آفریدی کو پلیئر آف دی ڈے چننے پر اس لیے مجبور ہیں کہ ہم عوام ہیں اور آفریدی عوام کے لیے کھیلتا ہے۔ بات یہ نہیں ہے کہ انضمام اور محمد یوسف لوگوں کے لیے نہیں کھیلتے مگر آفریدی کے انداز میں بغاوت کا عنصر بدرجہ اتم ہے۔ وہ ہماری، آپ کی طرح اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہے۔ اس خوبی کی وجہ سے تو ہم شعیب اختر کو بھی اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں میں شامل کر لیتے ہیں۔ آفریدی تو خیر پچھلے کچھ دنوں میں شعیب سے کہیں زیادہ مستقل مزاج ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے 2005 میں چالیس رنزز فی اننگز سے زیادہ کی اوسط سے رنز بنائے ہیں۔ ان رنزوں کی عوامی ویلیو اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اپنی تمام خامیوں کے باوجود اس کے ہاتھ میں مزہ تو ہے۔ | اسی بارے میں شاہد آفریدی کی شاندار واپسی20 November, 2005 | کھیل مسکراہٹ کا وسیلہ پیر انضمام الحق ملتانی 16 November, 2005 | کھیل سلمان بٹ: ایک دن کے بہتر کھلاڑی15 November, 2005 | کھیل چلو آج شعیب ہی سہی14 November, 2005 | کھیل ’پلیئر آف دی ڈے‘13 November, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||