چلو آج شعیب ہی سہی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملتان ٹیسٹ میں تیسرا روز پاکستان کی واپسی کا ہے اور ایک مرتبہ ٹیم کی مجموعی کارکردگی کسی ایک کھلاڑی پر بھاری ہے۔ پیر کے روز شبیر احمد اور شعیب اختر دونوں نے تین تین بلے بازوں کو آؤٹ کیا اور دانش کنیریا نے بھی پچھلے روز کے مقابلے میں بہت بہتر گیند کی۔ اگر فیلڈر ساتھ دیتے تو شاید کنیریا کے اعدادوشمار قدرے بہتر ہوتے۔ دوسری اننگز کے آغاز میں پاکستان کی بیٹنگ بھی اس بار کہیں زیادہ مثبت رہی، بلکہ یہ کہنا ہو گا کہ کہیں نہ کہیں پاکستان کے بلے باز ضرورت سے زیادہ ہی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے نظر آئے۔ جیسا کہ شعیب ملک جو بلاوجہ ہارمیسن کی ایک باہر جاتی ہوئی گیند کو چھیڑتے ہوئے سلپ میں پکڑے گئے۔ پھر شروع شروع میں اور اپنے آؤٹ ہونے سے کچھ دیر پہلے یونس خان بھی ذرا جلد میں نظر آئے۔ مگر بہرحال یہ انداز پاکستان کے پہلی اننگز کے ضرورت سے زیادہ محتاط انداز سے کہیں بہتر تھا اور شاید میزبان ٹیم کے حق میں یہ ہی بہتر ہو گا کہ وہ کھیل کے چوتھے روز بھی اچھی رفتار سے رنز بنانے کی کوشش کرے۔ تیسرے روز کے کھیل کے دوران یقیناً پاکستانی باؤلرز نے کسی حد تک انگلینڈ کے سکور کو محدود کیا ہے مگر انگلینڈ کے باؤلرز میں بھی بہت جان ہے اور انڈریو فلنٹوف کے لگاتار باؤنسرز اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ کہ وہ اور ان کے ساتھی اتنی آسانی سے پاکستان کو اپنی گرفت سے آزاد نہیں کریں گے۔ آپ کو یہ بات عجیب سی لگے گی کہ یہ ایک cliche ہے، مگر واقعی ’کھیل کا چوتھا روز بہت اہم ہے‘۔ پاکستان کی گیم میں واپسی کے باوجود تیسرے روز کے دوران انفرادی کھیل کے حوالے سے پہلا نام مارکس ٹریسکوتھک کا ہے۔ وہ صرف سات رنز کی کمی سے اپنی ڈبل سنچری مکمل نہ کر سکے۔ فلنٹوف نے انگلینڈ کی طرف سے اچھی بیٹنگ کی۔ پاکستان کی طرف سے شبیر احمد نے اچھی لائن پر گیند کی، حالانکہ یہاں پر یہ کہنا ہو گا کہ ایکشن میں ناگزیر تبدیلی کے بعد ان کے ہاں اب پہلے جیسی سوئنگ کا فقدان ہے۔ مگر آپ چاہے اسے فیورٹ ازم کہیں یا بت پرستی کا نام دیں۔ شعیب اختر کے تین وکٹ کی خوشی یہاں لوگوں کو بہت زیادہ ہوئی۔ کھیل تو خیر قائم ہی فیورٹ ازم پر ہے اور پھر شعیب اختر کے چاہنے والوں کا یہ خیال ہے کہ وہ صرف انگلستان کے خلاف ہی نہیں کھیل رہے، پاکستان کے سرکاری کرکٹ حلقوں میں بھی انکے چھکے چھڑانے کی تمنا رکھنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ کجا یہ کہ اخبارات بھی کئی بار ان سے ولن جیسا سلوک کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ شعیب اختر نے اپنے تین وکٹ تقریباً سو رنز کے عوض حاصل کیے مگر گزشتہ روز کی کارکردگی کے بعد ٹیسٹ کا تیسرا دن ان کے لیے کافی اچھا رہا۔ شعیب اختر کے معاملے میں ایک منفی بات یہ عام خیال ہے کہ کپتان انضمام الحق کو ان کی صلاحیتوں پر پورا اعتماد نہیں۔ کپتان کے دو حوصلہ افزاء الفاظ کسی باؤلر کے لیے ایندھن کا کام کرتے ہیں۔ مگر شعیب اختر کو ان الفاظ کو حاصل کرنے کے لیے ابھی اپنے آپ کو ثابت کرنا ہے۔ رہا باہر سے حوصلہ افزائی کا معاملہ تو چلیے انہیں تیسرے روز کے کھیل کا کھلاڑی قرار دیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان کی طرف سے کیا جواب آتاہے۔ ہم سلمان بٹ کو بھی اس اعزاز کا حقدار قرار دے سکتے تھے مگر پھر سوچا کہ انہیں میچ کے چوتھے روز سنچری بنا کے اس ٹائیٹل کو جیتنے کا موقع فراہم کریں۔ لیجئے پاکستان نے کھیلنا شروع کیا ادھر خیالی پلاؤ پکنا شروع ہو گئے۔ |
اسی بارے میں ’شعیب یہ کیا کررہے ہو؟‘13 November, 2005 | کھیل شعیب اختر کی ٹی وی چینل کودھمکی26 October, 2005 | کھیل شعیب اختر انگلینڈ کے خلاف ٹیم میں؟ 17 October, 2005 | کھیل شعیب اختر، میڈیا ٹرائل یا ٹرائلز میچ29 August, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||