شعیب اختر انگلینڈ کے خلاف ٹیم میں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ کے خلاف ہونے والی سیریز میں کیا شعیب اختر پاکستانی کرکٹ ٹیم کا حصہ بن سکیں گے؟ یہ سوال اس وقت دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر کو آسٹریلیا کے خلاف سپر ٹیسٹ کھیلنے والی ورلڈ الیون سے ڈراپ کر دیا گیا۔ کوچ باب وولمر سے جب شعیب اختر کی آسٹریلیا کے خلاف دو ون ڈے میچوں میں ناکامی کی بابت پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ون ڈے میچوں کو کارکردگی پرکھنے کا پیمانہ نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ پوری ورلڈ الیون ہی آسٹریلیا کے خلاف ناکام ہوگئی جہاں تک شعیب اختر کا تعلق ہے تو ان کی فارم اور فٹنس کا اندازہ لاہور کے چار روزہ میچ سے ہوسکے گا۔ باب وولمر کا کہنا ہے کہ شبیراحمد کا بولنگ ایکشن کلیئر ہوچکا ہے۔ محمد سمیع ایڑی کی تکلیف سے چھٹکارہ پاچکے ہیں اور عمرگل بھی فٹ ہوچکے ہیں۔ اگر پاکستانی ٹیم دو اسپنرز کے ساتھ میدان میں اترنے کی حکمت عملی بناتی ہے تو اس صورت میں تین تیز بولرز کی جگہ رہتی ہے ان حالات میں بولرز کا انتخاب اتنا آسان نہیں ہوگا۔ چیف سلیکٹر وسیم باری ٹیم میں شعیب اختر کی واپسی کو بڑی حد کپتان کی مرضی سے مشروط قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ان کھلاڑیوں کو منتخب کریں گے جن پر کپتان کا بھرپور اعتماد ہو کیونکہ میدان میں کپتان ہی نے ان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔ وسیم باری کا کہنا ہے کہ سپر ٹیسٹ کے دوران شعیب اختر اور انضمام الحق کے درمیان انگلینڈ کے خلاف سیریز کے بارے میں ضرور بات ہوئی ہوگی۔ چیف سلیکٹر کا کہنا ہے کہ شعیب اختر کی فارم اور فٹنس لاہور کے چار روزہ میچ میں دیکھنے کے بعد اگر ضروری ہوا تو سلیکشن کمیٹی کپتان کے مشورے سے راولپنڈی ایکسپریس کو انگلینڈ کے خلاف پنڈی یا لاہور کے چار روزہ میچ میں بھی موقع دے سکتی ہے تاکہ وہ فارم میں آسکیں۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ شعیب اختر پر دو سیریز ٹیم سے باہر رہنے کے بعد بے پناہ دباؤ ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||