BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 October, 2005, 19:06 GMT 00:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریورس سوئنگ سے زیادہ خطرناک

راشد لطیف انضمام الحق
راشد لطیف کے بقول موجودہ صرف انضمام الحق شارٹ پچ بولنگ کو کھیلنے میں مہارت رکھتے ہیں
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر راشد لطیف کے خیال میں پاکستان اور انگلینڈ کی سیریز میں یقینی طور پر ریورس سوئنگ نمایاں نظر آئے گی لیکن یہ سیریز درحقیقت پاکستانی بیٹسمینوں کی صلاحیتوں کا امتحان ہے جنہیں انگریز بولرز کی شارٹ آف لینتھ گیندوں کا سامنا ہوگا۔

پاکستان کی طرف سے37 ٹیسٹ اور 166ون ڈے کھیلنے والے36 سالہ راشد لطیف کا کہنا ہے کہ موجودہ پاکستانی ٹیم میں انضمام الحق وہ واحد بیٹسمین ہیں جو اٹھتی ہوئی گیندوں کو اعتماد سے کھیلنے میں مہارت رکھتے ہیں جبکہ انگلینڈ کے بیٹسمینوں نے حالیہ ایشیز سیریز میں آسٹریلوی بیٹسمینوں کی شارٹ پچ بولنگ کو اعتماد سے کھیلا ہے۔

راشد لطیف کہتے ہیں کہ1992 سے1997 تک کے عرصے میں پاکستانی ٹیم میں کھیلنے والے عامر سہیل، سعید انور، باسط علی، اعجاز احمد، سلیم ملک اور انضمام الحق شارٹ پچ بولنگ کو کھیلنے میں مہارت رکھتے تھے لیکن یہ موجودہ ٹیم کے لئے یہ ایک بڑا مسئلہ ہے ۔

راشد لطیف جن کا اپنا ٹیسٹ اور ون ڈے کریئر انگلینڈ کے خلاف شروع ہوا تھا کہتے ہیں کہ میتھیو ہوگرڈ نئی گیند سے بیٹسمینوں کے لئے خطرناک ثابت ہونگے جیسا کہ آسٹریلیا کے خلاف ابتدائی کامیابی انہی کے ذریعے انگلینڈ کو ملتی رہی۔ اس کے بعد ریورس سوئنگ شروع ہوگی انگلینڈ کا پیس اٹیک ہارمیسن ہوگرڈ اور فلنٹوف کی موجودگی میں بہت مؤثر ہے البتہ سائمن جونز کی کمی محسوس ہوگی۔

راشد لطیف جن کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ انہوں نے شعیب اختر کو اچھی طرح ہینڈل کیا کہتے ہیں کہ کوئی بھی کھلاڑی کسی بھی ٹیم کے لئے ناگزیر نہیں ہوتا۔جہانتک شعیب اختر کا تعلق ہے اگر وہ ویسٹ انڈیز اور بھارت میں ہوتا تو پاکستانی ٹیم سیریز برابر کرنے کے بجائے سیریز جیت جاتی۔

شعیب اختر ٹیم میں واپس آنے پر سخت دباؤ میں ہوگا۔اسے ٹیم میں جگہ بنانی ہے لہذا دو ٹیسٹ اسی میں گزرجائیں گے اگر وہ فٹ رہا تو تیسرے ٹیسٹ میں میچ ونر ثابت ہوسکتا ہے۔ راشد لطیف کہتے ہیں کہ آپ نے شعیب اختر کو پچیھے چھوڑدیا ہے ۔ اب آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ شعیب اختر ہوگا تو آپ جیت سکتے ہیں۔

دانش کنیریا کے بارے میں راشد لطیف کا کہنا ہے کہ وہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس کی گگلی سب سے خطرناک ہتھیار ہے جو شین وارن کے پاس بھی نہیں ہے لیکن وہ بہت زیادہ رنز دیتا ہے۔ اسے بیس اوورز کے بعد وکٹیں ملنا شروع ہوتی ہیں کیونکہ وہ شروع میں فلیٹ بولنگ کرتا ہے پندرہ اوورز کے بعد جب فیلڈ کھلتی ہے گیند پرانا ہوتا اور وکٹ ٹرن ہونا شروع کرتی ہے تب وہ فلائٹ کے ذریعے وکٹ لیتا ہے۔ اسے رنز پر قابو کرنا ہوگا اور راؤنڈ دی لیگ بولنگ اور رف کا استعمال کرنا ہوگا۔

راشد لطیف کے مطابق پاکستان کے مقابلے میں انگلینڈ کی ٹیم پر زیادہ دباؤ ہوگا کیونکہ وہ ایشیز جیتنے کے بعد نمبر ایک ٹیم بننا چاہتی ہے جس کے لئے اسے وہی کارکردگی دکھانی ہوگی جو اس نے آسٹریلیا کے خلاف دکھائی تھی۔ اسوقت انگلینڈ کے پاس کوالٹی کرکٹرز موجود ہیں جس کا کریڈٹ راڈنی مارش کو جاتا ہے جنہوں نے اکیڈمی میں رہ کر اور پھر سلیکٹر کی حیثییت سے انگلش سیزن میں ہزار رنز اور پچاس سے زائذ وکٹیں حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو منتخب کرنے کے روایتی انداز سے ہٹ کر کوالٹی کرکٹرز کو مواقع فراہم کئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد