راشد لطیف کے حق میں مظاہرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے مختلف کلبوں سے تعلق رکھنے والے کرکٹرز نے جمعہ کو کراچی پریس کلب اور اخبارات کےدفاتر کے باہر راشد لطیف پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان کی جانب سے عائد کی جانے والی چھ ماہ کی پابندی کے فیصلے کے خلاف مظاہرہ کیا۔ یہ کرکٹرز پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر’ حق وسچ پر پابندی نامنظور‘ ،’ گو شہریارخان گو‘ اور’ راشد نے شہریارخان سے زیادہ کرکٹ کھیلی ہے‘ کے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے صدر پرویز مشرف سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات کا نوٹس لیتے ہوئے شہریارخان کو فوری طور پر برطرف کریں کیونکہ ان کے فیصلے جانبدارانہ اور غیرآئینی ہیں۔ واضح رہے کہ قائداعظم ٹرافی کے ایک میچ میں ٹیم کو میدان سے باہر لے جانے اور کھیل جاری نہ رکھنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے راشد لطیف پر چھ ماہ کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کردی تھی۔ان پر پندرہ ہزار روپے جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔ راشد لطیف نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پابندی کا فیصلہ کرتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور انہیں صفائی کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ مبصرین نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کے خلاف انضباطی کارروائی کرتے وقت اسے صفائی کا موقع دیا جاتا ہے لیکن راشد لطیف کے معاملے میں نہ تو پاکستان کرکٹ بورڈ کی ڈسپلنری کمیٹی کا اجلاس ہوا اور نہ ہی راشد کو طلب کرکے وضاحت مانگی گئی بلکہ چیئرمین نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کردیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||