کیاراشد لطیف واپس آ سکتے ہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وکٹ کیپر راشد لطیف نے پاکستان کے فرسٹ کلاس سیزن میں انتہائی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے پاکستانی سلیکٹرز کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ قائد عظم ٹرافی کے پانچ میچوں میں راشد لطیف نے 23 کیچز اور ایک اسٹمپڈ کر کے دوبارہ ٹیم میں اپنی شمولیت کے دعویدار بن گئے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سلیکٹرز، کپتان، کوچ اور بورڈ کے سربراہ سمیت کوئی بھی راشد لطیف کی ٹیم میں دوبارہ شمولیت کے بارے میں خاموش ہیں۔ راشد لطیف نے قائداعظم ٹرافی شاندار وکٹ کیپنگ کا مظاہرہ اس وقت کیا جب آسٹریلیا کے دورے کے لیے ٹیم کا چناؤ ہونے والا ہے اور پاکستانی ٹیم کو ایک تجربہ کار وکٹ کیپر کی اشد ضرورت ہے۔ مایوس کن کارکردگی کے طویل سلسلے کے بعد بالاخر کپتان انضمام الحق کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا ہے اور انہوں نے معین خان کو ٹیم سے ڈراپ کرنے کے فیصلے کو تسلیم کرلیا۔ معین خان کو ٹیم سے نکالنے کے بعد بھی سلیکٹرز نے اپنے بلندو بانگ دعوؤں کی سراسر نفی کردی کہ وہ پرفارمنس کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق کپتان انضمام الحق اور نائب کپتان یوسف یوحنا راشد لطیف کی ٹیم میں واپسی کے حق میں نہیں ہیں اسی لیے تجربات کے نام پر پہلے یونس خان سے وکٹ کیپنگ کرائی گئی اور پھر کامران اکمل کو ٹیسٹ ٹیم میں شامل کر لیا۔ گزشتہ سال جنوبی افریقہ کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں سے خود کو الگ کرلیا تھا۔ بھارت کے خلاف سیریز کے موقع پر ایک ٹی وی چینل پر انہوں نے لاہور ون ڈے پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے اپنے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگادیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ راشد لطیف کی طرف سے لاہور ون ڈے میچ کے نتیجے کے بارے میں شکوک کا اظہار کرنے کی وجہ سے انضمام الحق نے ان کے بارے میں اپنی رائے تبدیل کرلی ہے۔ راشد لطیف کو ماضی میں سچ کی قیمت چکانی پڑی ہے۔ بھارت کے خلاف سیریز کے موقع پر بغیر ثبوت کے بات کرنے سے راشد لطیف کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو اسوقت ایک تجربہ کار وکٹ کیپر کی ضرورت ہے جو شاید راشد لطیف سے بہتر کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||