راشد لطیف پر چھ ماہ کی پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ نے وکٹ کیپر راشد لطیف پر چھ ماہ تک فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے پندرہ ہزار روپے جرمانہ کیا ہے۔ ان کے خلاف یہ کارروائی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی بنا پر لگائی گئی ہے۔ قائداعظم ٹرافی کے فیصل آباد میں کھیلے گئےایک میچ میں کراچی بلیوز کے کپتان کے طور پر راشد لطیف اپنی ٹیم کو میدان سے باہر لے آئے تھے کیونکہ ان کے بقول اقبال اسٹیڈیم کی وکٹ کھیلنے کے قابل نہیں تھی اور اس پر بیٹسمینوں کے لئے خطرہ تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس ضمن میں راشد لطیف کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا یہ قدم ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہے انہوں نے اس طرح کی حرکت پہلے بھی کی ہے جسے مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ راشد لطیف پر عائد پابندی کے سبب ان کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کی امیدیں دم توڑگئی ہیں جو اس سیزن میں ان کی عمدہ کارکردگی اور ان کے حریف وکٹ کیپر معین خان کی خراب فارم کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھیں۔ راشد لطیف پر یہ پابندی مئی میں ختم ہوگی ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کراچی بلیوز کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسے قائداعظم ٹرافی میں کھیلنے کی اجازت ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||