| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
راشد لطیف اور معین خان باہر
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) توقیر ضیا نے یہ دعوی کیا تھا کہ ان کی نظر میں صرف راشد لطیف اور معین خان ہی دو تجربہ کار وکٹ کیپر ہیں، لیکن یہ دونوں تجربہ کار وکٹ کیپر پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کے ناقابل فہم تجربات کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ سلیکشن کمیٹی نے نیوزی لینڈ کے خلاف پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کی تیاری کے لئے لگائے جانے والے قومی کیمپ میں جن بائیس کھلاڑیوں کو بلایا ہے راشد لطیف اور معین خان ان میں شامل نہیں ہیں۔ ان کے بجائے کامران اکمل کو کیمپ میں واحد وکٹ کیپر کے طور پر شامل کیا گیا ہے جس کا مطلب واضح ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں وہی کھیلیں گے۔ راشد لطیف اور معین خان کو مسترد کرنے کی دلیل پیش کرتے ہوئے چیف سلیکٹر عامرسہیل کا کہنا ہے کہ کامران اکمل کو منتخب کرنے کا مقصد مستقبل کی تیاری ہے۔ بقول ان کے کامران اکمل نے ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ راشد لطیف پر پانچ میچوں پرپابندی کے بعد سلیکٹرز نے بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے سیریز میں کامران اکمل کو موقع دیا تھا۔لیکن اوسط درجے کی وکٹ کیپنگ کے علاوہ وہ تین میچوں میں چھبیس ، صفر اور اٹھارہ رنز کی غیرمتاثرکن کارکردگی دکھاسکےتھے۔ یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ راشد لطیف کا جنوبی افریقہ کی سیریز سے قبل کپتانی سے ہٹایا جانا کرکٹ بورڈ کی روایتی سیاست کا نتیجہ تھا۔ یہ بات بھی دنیا نے دیکھی کہ میدان میں کپتان بظاہر یوسف یوحنا تھے لیکن وہ مشکل میں گرفتار ہونے پر راشد لطیف سے رہنمائی لینے پر مجبور تھے تو کیا کپتان کا کام صرف ٹاس کرنے تک محدود ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے دنیا پر یہ ظاہر کیا کہ ٹیم کے انتخاب کے معاملے میں راشد لطیف بااختیار کپتان تھے لیکن کیا وہ بات تسلیم کرے گا کہ اس کے چیف سلیکٹر نے ڈاکٹرز رپورٹ کے مطابق ایک ان فٹ کھلاڑی کو ملتان ٹیسٹ کے ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل کیا۔ اگر ان فٹ یاسرعلی کو کھلانا راشد لطیف کا جرم ٹھہرا تو شریک جرم عامرسہیل سے باز پرس کیوں نہیں کی گئی؟ راشد لطیف نے ذاتی مصروفیات کی بنا پر جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز نہیں کھیلی تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے معین خان کو ڈھائی سال بعد دوبارہ یاد کرتے ہوئے ٹیم میں شامل کرلیا جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کامران اکمل کی کارکردگی سلیکٹرز کے معیار پر پوری اترتی ہوتی تو وہ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیل رہے ہوتے۔ لیکن سلیکٹرز نے تجربے کے متبادل کے طور پر تجربے کا انتخاب کیا پاکستان کرکٹ بورڈ اور اس کے سلیکٹرز اگر نیوزی لینڈ کے خلاف راشد لطیف کو اگر صرف اس لئے نہیں کھلانا چاہتے کہ وہ ان کی گڈ بکس میں نہیں ہیں تو دوسری چوائس معین خان ہوسکتی تھی جن کے بار ے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ طویل عرصے بعد ٹیم میں واپسی پر معین خان پر پریشرتھا لہذا اس کی حوصلہ شکنی نہیں کرنی چاہئے جبکہ کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ معین خان کے آنے سے ٹیم کا مورال بلند ہوا تو اب ان کے نہ ہونے سے ٹیم کا مورال متاثر نہیں ہوگا؟ کامران اکمل سے زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے باوجود وکٹ کیپر عتیق الزماں موقع کے منتظر ہیں۔ سلیکٹرز نے قومی کیمپ کے لئے اعلان کردہ بائیس کھلاڑیوں میں اوپنر سلیم الہی کو یہ کہہ کرشامل کیا ہے کہ موجودہ ڈومیسٹک کرکٹ سیزن میں وہ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ مبصرین حیران ہیں کہ ورلڈ کپ میں تسلی بخِش کارکردگی دکھانے کے باوجود انہی سلیکٹرز نے سلیم الہی کو کیوں نظر انداز کردیا تھا اور اوپننگ کے نام پر تجربات کا سلسلہ کیوں شروع کردیا تھا۔ مبصرین نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے اگر سلیکٹرز میرٹ کی بات کرتے ہیں تو وہ شاہد آفریدی کو دوبارہ موقع دینے کے لئے کیوں تیار نہیں ہیں جو جنوبی افریقہ میں عمدہ پرفارمنس دکھارہے ہیں سلیکٹرز نے ممکنہ کھلاڑیوں میں یونس خان کو بھی شامل نہیں کیا ہے جو ان کے اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ وہ میرٹ کو اولیت دیتے ہیں کیونکہ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر ہونے کے بعد یونس خان نے اپنے ادارے حبیب بینک کی طرف سے ڈومیسٹک کرکٹ کے میچ میں 191 رنز کی شاندار اننگز کھیلی ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ایک روزہ میچوں کی سیریز کے لئے بلائے جانے والے کھلاڑی: عمران فرحت، سلمان بٹ، سلیم الٰہی، توفیق عمر، یاسر حمید، انضمام الحق، یوسف یوحنا، عاصم کمال، مصباع الحق، بلال اسد، عبدالرزاق، اظہر محمود، شعیب ملک، شعیب اختر، محمد سمیع، عمر گل، شبیر احمد، عبدالرؤف، محمد ارشاد، فہد مسعود، کامران اکمل اور دانش کنیریا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||