| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرکٹ بورڈ کا مستقبل: راشد لطیف
پاکستان کرکٹ اس وقت اہم دوراہے پر ہے۔ آئندہ چند روز میں اس کے مستقبل کا فیصلہ ایوان صدر میں ہونے والا ہے۔ تمام نگاہیں صدر جنرل پرویز مشرف پر لگی ہیں کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے عہدے کے لئے کس کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ صورتحال لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) توقیرضیاء کے استعفے سے پیدا ہوئی ہے جنہوں نے نجی وجوہات کی بنا پر کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ ان کے استعفے کے پِس پشت عوامل ہرگز نجی نوعیت کے نہیں ہیں۔ پاکستان کرکٹ میں جب بھی عبوری اقدامات کئے گئے ہیں تو اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ملکی کرکٹ کے اس سب سے بڑے اور معتبر ادارے کے معاملات احسن طور پر نہیں چلائے جارہے تھے لہذا ہنگامی ایکشن لینا ناگزیرسمجھا گیا۔ پاکستان کرکٹ کی 51 سالہ تاریخ میں 23 شخصیات نے اس اہم ادارے کی باگ ڈور سنبھالی جن میں باوردی اور ریٹائرڈ جنرل بھی شامل ہیں اور بیوروکریٹ اور ٹیکنوکریٹ بھی لیکن پاکستان کرکٹ کا ڈھانچہ کسی شکستہ عمارت کی طرح اپنی قسمت پر ماتم کرتا ہی نظر آیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یا تو آنے والے نے اپنے مفاد کو مقدم سمجھا یا کسی نے نیک نیتی سے حالات بدلنے کی ٹھانی تو درون خانہ سیاست نے اس کے عزائم میں رکاوٹیں پیدا کردیں یا وہ خوشامدیوں میں بری طرح گھرکر اپنے مقصد سے دور ہوتا چلا گیا۔ لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) توقیرضیا، جسٹس کارنیلئس ، جاوید برکی، مجیب الرحمن اور ڈاکٹر ظفر الطاف کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے پانچویں ایڈ ہاک سربراہ تھے۔ انہیں باوردی جنرل ہونے کے ناتے پاکستان کرکٹ بورڈ کا سب سے طاقتور ترین سربراہ بھی قراردیا جاسکتا ہے لیکن وہ بھی ملکی کرکٹ کے معاملات کو اپنی مرضی سے چلانے میں ناکام رہے۔ حیرت ہے کہ عسکری معاملات میں ماہر شخص کرکٹ کے معاملات میں ایسے لوگوں کے مشوروں پر انحصار کرتا رہا جو اپنے مفاد کو ترجیح دینے والے لوگ تھے۔ جنرل صاحب نفیس خاندانی آدمی ہیں لیکن وہ اپنے مشیروں کی غلطیوں پر ان کے خلاف سخت ایکشن لینے کے بجائے ان پر پردہ ڈالتے رہے انہیں بچاتے رہے جس سے ان مشیروں کو شہہ ملتی رہی اور وہ اپنا کھیل کھیلتے رہے۔ اگر جنرل صاحب پاکستان کرکٹ کے فیصلے مشیروں کے بجائے خود کرتے تو انہیں موجودہ صورتحال سے دوچار نہ ہونا پڑتا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے سربراہ کے طور پر اسوقت متعدد نام گردش میں ہیں جن میں عارف علی خان عباسی، خالد محمود اور ماجد خان تین ایسے نام ہیں جو پہلے بھی ملکی کرکٹ کے معاملات چلاچکے ہیں۔ ماجد خان اپنی اصول پسندی کے لئے شہرت رکھتے ہیں اور کرکٹ کے حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ عارف علی خان عباسی ان کے خیال میں ایسے شخص ہیں جو پاکستان کرکٹ کو دوبارہ بلندی پر لے جاسکتے ہیں۔ آج پاکستان کرکٹ میں جتنا بھی پیسہ اسپانسرشپ سے آیا وہ عارف علی خان کی صلاحیتوں کا نتیجہ ہے ، ان کے دور میں ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار بھی تسلی بخش رہا۔ جہاں تک خالد محمود کا تعلق ہے وہ جنوری 1998ء سے جولائی 1999 تک کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رہے۔ ان کے دور میں میچ فکسنگ کا تنازعہ اپنے عروج پر رہا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||