عبدالرشید شکور بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 |  راشد لطیف |
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان کو لیگل نوٹس بھیجا ہے۔ اس نوٹس میں ان پر چھ ماہ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے پر عائد پابندی اور جرمانے کو ختم کرنے کے لئے کہا ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ضمن میں راشد لطیف نے پاکستان کرکٹ میں میچ فکسنگ کی تحقیقات کرنے والے سابق جج ملک محمد قیوم کی خدمات حاصل کی ہیں جو اب وکالت کررہے ہیں۔ ملک محمد قیوم کی وساطت سے شہریارخان کو بھیجے گئے نوٹس میں راشد لطیف نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ان پرعائد پابندی اور جرمانے کی سزا بلاجواز ہے جو فورا ختم ہونی چاہیئے۔ یاد رہے کہ قائداعظم ٹرافی میں کراچی بلوز اور فیصل آباد کے درمیان اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں کھیلے جانے والے میچ میں راشد لطیف نے جو کراچی بلوز کے کپتان تھے اس جواز کے تحت میچ جاری رکھنے سے انکار کردیا تھا کہ وکٹ خطرناک تھی جس پر بیٹسمینوں کے زخمی ہونے کا خطرہ تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ جواز تسلیم نہ کرتے ہوئے راشد لطیف کے اقدام کو ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی سے تعبیر کرتے ہوئے ان پر چھ ماہ کی پابندی اور پندرہ ہزار روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔ |