BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 September, 2003, 10:23 GMT 14:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راشد لطیف مستعفی

راشد لطیف
راشد لطیف کو ٹیم کوسنبھالا دینے کے لئے لایا گیا تھا۔

راشد لطیف نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان کے عہدے سے استعفی دے دیا ہے ان کے اس فیصلے کو مبصرین پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ ) توقیرضیاء کے عدم اعتماد کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔

راشد لطیف نے یہ قدم پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ سے ملاقات کے بعد اٹھایا ہے۔

یہ ملاقات دونوں کے درمیان خلیج اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے کرائی گئی تھی جو متعدد امور پر کافی دنوں سے موجود تھیں لیکن غلط فہمیاں دور نہ ہوئیں راشد لطیف کا استعفی سامنے آگیا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ راشد لطیف کو استعفیٰ دینے کے لئے مجبور کیاگیا جس کی انہوں نے تعمیل کردی انہوں نے اپنے استعفیٰ کی جو رسمی وجہ بیان کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ وہ نوجوان کرکٹرز کے لئے جگہ چھوڑدیں۔

استعفیٰ کا یہ نکتہ عام طور قابل قبول اس لئے نظر نہیں آتا کہ عالمی کرکٹ کپ میں پاکستان ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد سینئر کرکٹرز سے بیزار پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیم کو سنبھالا دینے کی خاطر راشد لطیف کو نیوزی لینڈ کے دورے تک کے لئے کپتان بنایا تھا اور اب تک وہ بحیثیت کپتان اچھے نتائج دینے میں کامیاب رہے تھے۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے بھی رسمی لفظوں میں راشد لطیف کی خدمات کو سراہا ہے اور انہیں ایک ایماندار کرکٹر اور بہترین وکٹ کیپر قرار دیا ہے۔

توقیرضیاء کے یہ رسمی جملے ان کے ان خیالات سے قطعاً مختلف ہیں جن کا اظہار انہوں نے راشد لطیف سے ملاقات اور استعفیٰ سے صرف ایک روز قبل کیا تھا۔

بھارتی بزنس مین شیام بھاٹیا کی کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) توقیر ضیاء نے راشد لطیف پر میچ فکسنگ کے ضمن میں براہ راست آئی سی سی سے رابطہ کرنے، ذرائع ابلاغ سے بار بار بات کر کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے، ملتان ٹیسٹ میں یوسف یوحنا کو ڈراپ کرکے غیرموزوں اور ان فٹ کھلاڑیوں کو کھلانے اور غیرذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے جیسے سنگین نوعیت کے الزامات عائد کئے تھے۔

وہ اس بات پر بھی خوش نہیں کہ پانچ میچوں کی پابندی کے خلاف اپیل کی پیشکش پر انہوں نے بورڈ کو مثبت جواب نہیں دیا توقیرضیاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ان کی بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ کی کارکردگی میں بھی فرق آیا ہے۔

ان کے اس تیزوتند بیان کے بعد راشد لطیف کے استعفیٰ پر حیرت نہیں ہونی چاہئے کیونکہ بقول مبصرین وہ کرکٹ بورڈ کے سربراہ کی گڈبک میں نہیں رہے جہاں تک راشد لطیف کی انفرادی کارکردگی کا تعلق ہے تو یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ٹیم میں واپس آنے کے بعد سے وہ بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ میں قابل ذکر پرفارمنس دیتے آئے ہیں۔

بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں انہوں نے کراچی اور پشاور ٹیسٹ میں اہم مواقع پر عمدہ اننگز کھیلیں جبکہ تین ٹیسٹ سیریز میں سب سے زیادہ کیچ کا نیا ریکارڈ بھی قائم کیا۔

مقامی اخبارات نے ٹیم سلیکشن کے معاملات میں راشد لطیف کے چیف سلیکٹر عامرسہیل سے شدید اختلافات کی خبروں کو نمایاں جگہ دی ہے جس سے ان دعوں کی نفی ہوتی ہے کہ راشد لطیف کو ٹیم سلیکشن میں مکمل آزادی تھی۔

ان پر یہ تنقید تو کی گئی ہے کہ انہوں نے ان فٹ اور غیرموزوں کھلاڑی ملتان ٹیسٹ میں کھلائے لیکن کوئی یہ جواب دینے کے لئے تیار نہیں کہ ان فٹ کھلاڑیوں کو سلیکٹرز نے کیوں منتخب کیا؟ اس سوال کا جواب بھی ابھی تک نہیں مل سکا ہے کہ چیف سلیکٹر نے پاکستان ایمرجنگ ٹیم کا کپتان جنید ضیاء کو مقرر کرنے کا اعلان کیسے کرلیا جبکہ وہ کپتان نہیں صرف ٹیم منتخب کرنے کے مجاز ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک جانب راشد لطیف کے استعفیٰ پر انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے تو دوسری جانب یہ بھی کہا ہے کہ ان کا استعفی منظور یا مسترد نہیں کیا گیا ہے اور اس بارے میں حتمی فیصلہ توقیرضیاء کرینگے۔

دوسری جانب راشد لطیف بھی کپتانی سے استعفیٰ کے بعد ایک موقف پر قائم نہیں رہے اپنے استعفیٰ میں انہوں نے کیریئر ختم ہونے کی بات کی ہے لیکن مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کپتانی سے استعفیٰ کے باوجود بحیثیت کھلاڑی جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلنے کا اعلان کیا ہے۔

بعض مبصرین کو اس بات پر حیرت ہے کہ راشد لطیف بورڈ کے سربراہ کی زبردست تنقید اور الزامات پر خاموش ہیں اور حقائق سامنے لانے میں کیوں مصلحت پسندی سے کام لے رہے ہیں جبکہ ماضی میں انہوں نے کبھی بھی حالات سے سمجھوتہ نہیں کیا خاص کر میچ فکسنگ جیسے حساس موضوع پر انہوں نے اپنا کیرئر داؤ پر لگادیالیکن اب وہ کئی معاملات پر کھل کر سامنے آنے سے کترارہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد