BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 November, 2005, 14:01 GMT 19:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسکراہٹ کا وسیلہ پیر انضمام الحق ملتانی

انضمام اور ٹریسکوتھک
انضمام الحق کی ٹیم نے ٹریسکوتھک کی ٹیم سے میچ کھینچ لیا
مائیکل وان پاکستان کے زلزلہ سے سمٹے ہوئے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کے خواہش مند تھے۔ بدھ کے روز میزبان ٹیم کی فتح یقیناً ایک ایسی خبر ہے جس سے کرکٹ کے دیوانے پاکستانی شائقین کو راحت ملے گی۔

جیت کر مخالف ٹیم کی تعریف ایک آسان رسم ہے مگر یہ بات سچ ہے کہ آخری روز کو چھوڑ کر انگلینڈ ملتان میں بہت دلجمعی کے ساتھ کھیلا۔

آخری روز کے آغاز پر زیادہ مبصرین کا خیال تھا کہ جیسے تیسے انگلینڈ یہ میچ لے جائے گا۔ ساتھ ساتھ کچھ پرانے کھلاڑی مثلاً وقار یونس یہ کہہ رہے تھے کہ دوسری اننگز کا دباؤ بڑے بڑوں کے ہاتھ پاؤں پھلا دیتا ہے اور یقیناً پاکستان کے پاس ایسے باؤلر ہیں جو عین موقع پر کھیل کا رخ موڑ سکتے ہیں۔

اس بار وقار یونس کی پیش گوئی صحیح ثابت ہوئی۔ دانش کنیریا نے اچھی باؤلنگ کا مظاہرہ کیا مگر آہستہ روی کی عادی پچ کو نظر میں رکھتے ہوئے یہ کہنا ہوگا کہ انگلینڈ کے کھلاڑی دوسری اننگز میں کنیریا سے کچھ زیادہ ہی خائف دکھائی دیے۔

شعیب
جیت میں شعیب نے اہم کردار ادا کیا

بہر صورت کنیریا نے خود کو انضمام الحق کے اعتماد کا اہل ثابت کیا۔ جن گیندوں پر انہیں وکٹیں ملیں وہ تو خیر ویسے ہی ریکارڈ بکس کا حصہ بن گئیں لیکن انہوں نے اس کے علاوہ بھی انگلینڈ کے بلے بازوں کو پریشان کیے رکھا۔

کنیریا کس کلاس کے باؤلر ہیں، یہ بحث جاری ہے۔ ملتان ٹیسٹ کے پانچویں روز زیادہ اہم بات یہ تھی کہ آیا پاکستان کے دیگر باؤلروں میں سے ان کا ساتھ دینے والا کوئی ہے؟

کوئی بھی ٹیم ایک باؤلر کے زور پر میچ جیتنے کی صرف تمنا کر سکتی ہے۔ اور اگر آپ کے سامنے ایک چھوٹے سکور کے دفاع کا مرحلہ ہو تو حالات اور بھی مشکل ہوتے ہیں۔

ملتان کے میچ کے آخری اور فیصلہ کن دن شعیب اختر کی باؤلنگ یقیناً قابلِ تعریف ہے۔ جن کا کام محض مشہور (اور کامیاب) لوگوں کی چٹکیاں لینا ہے وہ اس بار بھی شاید شعیب اختر کی توصیف میں ڈنڈی مار جائیں۔ لیکن اس کے برعکس بہت سے ایسے ناقد جو شعیب کے عیب صرف اس وجہ سے ظاہر کرتے آئے ہیں کہ وہ ان سے سبق سیکھ کر اپنے ٹیلنٹ سے انصاف کریں، آج یقیناً مطمئن ہوں گے۔ شعیب کو اور سمیع کواور کنیریا کو بلاشبہ کافی محنت کی ضرورت ہے۔

انگلینڈ ہار کر بھی ملتان ٹیسٹ میں ایک مضبوط یونٹ کے طور پر سامنے آیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اتوار سے شروع ہونے والے فیصل آباد ٹیسٹ میں انگریز ملتان سے بھی زیادہ زور لگائیں گے۔

پاکستان ٹیم
پاکستان کے لیے جیت بہت ضروری تھی

فیصل آباد کا فیصلہ بعد میں ہوگا۔ فی الحال آج پاکستان کا دن ہے اور ہمارا خیال ہے کہ پلیئر آف دی ڈے چاہے کوئی بھی قرار پارئے، کھلاڑی جیت کی خوشی میں ہماری پسند کا برا نہیں منائیں گے۔

ہمارے پلیئر آف دی ڈے دانش کنیریا بھی ہوسکتے ہیں اور شعیب اختر بھی یا پھر یونس خان جو کہ عین وقت پر صحیح جگہ پر انتہائی خطرناک فریڈی فلنٹوف کا کیچ لینے کے لیے موجود تھے۔ یا پھر پیر انضمام الحق ملتانی جن کے ہاتھوں میں ان تمام باؤلرز اور فیلڈر کی باگ ڈور تھی اور جو موجودہ حالات میں ایک ایک مسکراہٹ کا وسیلہ ہیں۔

اسی بارے میں
چلو آج شعیب ہی سہی
14 November, 2005 | کھیل
’پلیئر آف دی ڈے‘
13 November, 2005 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد