’پلیئر آف دی ڈے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئی سرپرائز نہیں۔ ملتان ٹیسٹ کے دوسرے دن کے ہیرو یقیناً انگلینڈ کے کپتان ٹریسکوتھک ہیں۔ انہوں نے اپنی ناقابل شکست سنچری کی بدولت اپنی ٹیم کو ایک انتہائی مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا ہے جہاں سے پاکستان کے لیے شکست سے بچنا انتہائی مشکل ہے۔ ٹریسکوتھک کی کپتانی بھی اس میچ میں ابھی تک اچھی رہی ہے۔ میچ شروع ہونے سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ وہ زخمی مائیکل وان کے متبادل کے طور پر کپتانی کرنے پر کوئی زیادہ خوش نہیں تھے لیکن ٹیسٹ کے پہلے دن سے ہی محسوس ہو رہا ہے کے ٹریسکوتھک اس اچانک دی جانے والی ذمہ داری سے ناصرف احسن طور پر عہدہ برا ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ کسی قدر ڈری ہوئی ٹیم کے خلاف اپنے کھلاڑیوں کی زبردست کارکردگی سے محظوظ ہوتے نظر آ تے ہیں۔ اتوار کا کھیل کچھ زیادہ غیر متوقع نہیں رہا۔ خدا جانے کیا بات ہے کہ میری اور آپ کی طرح پاکستانی کھلاڑی بھی اتوار کے روز کام سے غیر حاضر رہتے ہیں۔آپ دیکھیے ان کی دوسرے دن کی کارکردگی اور بتائیے کیا پیشہ ور اپنے کام کو اس طرح انجام دیا کرتے ہیں؟ اپنی وکٹیں اس قدر جلدی کھو دیں جیسے ان کھلاڑیوں کو کسی اور ضروری کام پر روانہ ہونا ہے اور مخالف ٹیم کی وکٹیں لینے میں اتنی بے دلی کا مظاہرہ کیا جیسے یہ کام انہوں نے بہت عرصے سے کیا ہی نہیں۔ ہمارا مقصد بےجا تنقید نہیں، کہنا صرف یہ ہے کہ جس تیاری کا شور سن رہے تھے وہ میدان میں کچھ زیادہ نظر نہیں آئی۔شعیب اختر نے تو شاید کوئی ایک آدھ اوور اچھا کر بھی دیا ہوگا لیکن سمیع نے جن کی وکٹوں کی اوسط 46 رنز سے بھی زیادہ ہے، انتہائی مایوس کیا۔ کنیریا بھی ایک ایسی ٹیم پر جو حال ہی میں لیگ سپن کے بادشاہ شین وارن سے نبرد آزما ہو چکی ہے، کوئی خاص تاثر قائم کرنے میں ناکام رہے۔ دوسری طرف شبیر کو دیکھ کریہ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ باؤلر کبھی گیند کو سو ئنگ کر کے بلے بازوں کو پریشان کرنے کے لیے مشہور تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ایکشن کی درستگی کے ساتھ ساتھ ان کی سوئنگ ان سے روٹھ گئی ہے۔ ان پاکستانی گیند بازوں کے بارے میں حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا ۔ ہو سکتا ہے، بلکہ پاکستانیوں کے بقول خدا کرے ایساہو، کہ یہ تمام باؤلرز کھیل کے تیسرے روز ایک نئے عزم اور جوش کے ساتھ میدان میں اتریں اورانگلینڈ کو زیادہ لیڈ لینے سے روک لیں۔ مگر اب تک کے کھیل کے تناظر میں یہ بات صاف ہے کہ انگلینڈ نے پاکستان کو بہت دبا رکھا ہے۔ جو پاکستانی شائقین سائیڈ میچوں کے درمیان انگلینڈ کی ناقص کارکردگی اور مقامی ٹیم کی اچھی پرفارمنس سے خاصے خوش نظر آ رہے تھے، وہ ابھی تک خوابیدہ آنکھوں کے ساتھ پاکستانی کھلاڑیوں کے جاگنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ جو زیادہ حقیقت پسند ہیں وہ ملتان میں کھیلے جانے والے پچھلے کچھ میچوں میں پاکستان کی کارکردگی کی یاد دلاتے سنائی دیتے ہیں۔ یہ وہی ملتان ہے جہاں وریندر سہواگ کی 309 رنز کی اننگز کی بدولت بھارت نے پاکستان کو ایک اننگز سےشکست دی۔ یہ وہی ملتان ہے جہاں پاکستان بنگلہ دیش سے ہارتے ہارتے بچا۔ انگلینڈ ملتان میں جس طرح کھیل رہا ہے اس سے گمان ہوتا ہے جیسے یہ اس کی ہوم سیریز ہے۔ زبردست کھیل کا مظاہرہ کر تے ہوئے مارکس ٹریسکوتھک کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ملتان شہر میں لگے ہوئے ’ایم سی سی‘ سائن بورڈ کا مطلب ہے ملتان کرکٹ کلب۔ یہ یاد دہانی انتہائی ضروری ہے اور یہ ذمہ داری ہے ان لوگوں کی جو میدان میں میزبان ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ابھی تک تو ملتان پر انگلستان کی حکمرانی ہے۔ | اسی بارے میں پلیئر آف دی ڈے: اینڈریو فلنٹوف12 November, 2005 | کھیل ٹریسکوتھک، بائیں ہاتھ کا گراہم گوچ11 November, 2005 | کھیل انگلینڈ 3 آؤٹ مگر پوزیشن مضبوط13 November, 2005 | کھیل انگلینڈ: بلے بازوں کا پلہ بھاری13 November, 2005 | کھیل پاک انگلینڈ ملتان ٹیسٹ: سکور بورڈ12 November, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||