BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 November, 2005, 16:36 GMT 21:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پلیئر آف دی ڈے: اینڈریو فلنٹوف

فلنٹوف
فلنٹوف کے فن کی تعریف نہ کرنا ان کے ساتھ زیادتی ہوگی۔
کسی بھی ٹیسٹ میچ میں پہلے دن کا کھیل بہت اہم ہوتا ہے۔ ملتان ٹیسٹ کے حوالے سے پہلے دن کے پوائنٹس یقیناً انگلینڈ کے حصہ میں آئے۔ پاکستان کے ابتدائی بلے باز بہت دب کر کھیلے اور انگلینڈ کو آہستہ آہستہ اپنےاوپرحاوی ہونے کا موقع فراہم کر دیا۔

رہا پلیئرآف دی ڈے کا سوال، تو سیریز کے پہلے دن یہ ایک انتہائی مشکل انتخاب ہے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ دونوں ٹیمیں یہ ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہیں کہ کرکٹ ایک ٹیم گیم ہے اور اس میں فرد ربط ملت سے ہی قائم رہ سکتا ہے۔

پاکستان کی طرف سے سلمان بٹ، شعیب ملک اور یونس خان نے روشن مستقبل کی شنید تودی مگر پھر اپنی اپنی وکٹ گنوا کر پویلین کو لوٹ گئے۔ انضمام چونکہ خود ملتان کے ہیں اس لیے ان کا وکٹ پر ٹھہرنا بنتا تھا۔ ہو سکتا ہے وہ کل کسی ملتانی کرامت کا مظاہرہ کریں اور پلیئرآف دی ڈے قرار پائیں۔ رہی آج کی بات ۔۔ تو چاروناچار اس اعزاز کا حقدار انگلینڈ کی ٹیم کے کسی کھلاڑی ہی کو ٹھہرایا جانا ہوگا۔

چھتیس سالہ آف سپنر شان اُوڈل نے آج اپنے کیریر کی پہلی وکٹ حاصل کی مگر وہ اور ان کے زیادہ مشہور سپنر ساتھی ایشلے جائلز پہلے دن کچھ زیادہ نہیں چمک پائے، جو کے امید کے عین مطابق تھا۔اِن کے مقابلے میں انگلینڈ کے تیز باؤلروں نے بہت تجربہ کار یونٹ کی طرح کام کیا اور اس کے اچھے نتائج حاصل کیے۔

میتھیوہوگارڈ اپنے دوسرے باؤلرز سے شروع میں کسی قدر پیچھے نظر آئے، مگر انہوں نے بھی کھیل کے آخر میں کامران اکمل کو آؤٹ کر کے صبح کی کمیوں کا کسی قدر مداوہ کر دیا۔

سٹیفن ہارمسن اور اینڈریو فلنٹوف بہرحال ہوگارڈ کے مقابلے میں زیادہ موثر ثابت ہوئے۔ ہارمسن نےصبح کے سیشن میں انتہائی کنجوسی کا مظاہرہ کیا اور انتہائی محتاط پاکستانی بلے بازوں کو رنز بنانے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا۔ پھر دوپہر کو انہوں نے پہلے یونس خان کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا اور اسکے بعد چھ سال بعد پاکستان کی ٹیم میں واپس آنے والے حسن رضا کو بنا کسی سکور کے پویلین کی راہ دکھائی۔

ان تمام باؤلروں کی اچھی کارکردگی کے باوجود اینڈریو فلنٹوف پاکستانی تماشائیوں پر اپنی دھاک بٹھانے میں کامیاب ہو گئے۔ ایک ایسا وقت تھا جب پاکستانی باؤلرز پرانی گیند کو ریورس سؤنگ کرانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے لیکن موجودہ کرکٹ میں فلنٹوف ہی ایک ایسے کھلاڑی ہیں جنہیں پرانی گیند کو اپنی مرضی سےگھمانےمیں قدرت حاصل ہے۔ملتان ٹیسٹ کے پہلے روز فریڈی فلنٹوف نے دو وکٹیں حاصل کیں مگر جس گیند پر انہوں نے محمد یوسف کو بولڈ کیا وہ دیکھنے کے قابل تھی۔ کہنے والے کہیں گے کہ اس میں یوسف کے اونچے بیٹ لفٹ کا بھی دخل تھا مگر بہرصورت فلنٹوف کے فن کی تعریف نہ کرنا ان کے ساتھ زیادتی ہوگی۔

انگلینڈ کی ابھرتی ہوئی طاقت کا پاکستان کی سرزمین پر یہ پہلا مظاہرہ فلنٹوف کے ذریعے یوں بھی متوقع تھا کیونکہ وہ اپنی ٹیم کی حالیہ فتوحات میں ایک ستون کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ تو محمد یوسف کو کی گئی اس گیند کے بعد تو انیڈریو فلنٹوف ہی اس سیریز کے ہمارے پہلے پلیئرآف دی ڈے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد