یہ سب کچھ ناقابلِ یقین لگتا ہے: فلنٹاف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ کے مردِ بحران اینڈریو فلنٹاف نے پیر کو ایشیز سیریز میں اپنی ٹیم کی کامیابی کے بعد کہا کہ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ مین آف دی سیریز قرار دیئے گئے ہیں۔ ’میں نے ایشیز ایسے ہیں دیکھی جیسے کوئی بچہ دیکھتا ہے۔ لیکن اس سیریز میں شامل ہونا اور پھر انگلینڈ کی فتح میں ایک بڑا کردار ادا کرنا - - - - بس یوں سمجھ لیجئے یہ سب کچھ ناقابلِ یقین سا لگتا ہے۔‘ کیون پیٹرسن کی اننگز پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم نے آج ان کی ایک بہترین اننگز دیکھی ہے۔ پیٹرسن نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایشیز سیریز کے آخری میچ کے آخری دن سات چھکوں اور پندرہ چوکوں کی مدد سے ایک سو اٹھاون رنز بنائے۔ فلنٹاف کا کہنا تھا کہ ’میرے پاس وہ لفظ نہیں ہیں کہ میں بتا سکوں کہ اس میچ کے آخری دن کھیلنے کے لیے میدان میں اترنا کتنا بڑا دباؤ تھا لیکن پیٹرسن نے خوب کھیل کھیلا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کی ٹیم کی مضبوطی اس بات میں مضمر ہے کہ ہمارے کھلاڑی مختلف موقعوں پر کوئی نہ کوئی کمال کر دکھاتے ہیں اور پیر کو یہ کام پیٹرسن نے کر دکھایا۔‘ ساتھ ہی فلنٹاف نے ایشلے جائلز کی بھی تعریف کی اور کہا کہ اکثر انہوں نے انگلینڈ کے لیے بڑی عمدہ اننگز کھیلی ہیں اور پیر کو بھی انہوں نے وہی کارکردگی دہرا دی۔ فلنٹاف کے خیال میں اس سیریز کا اہم موڑ وہ تھا جب ایجبیسٹن میں دوسرے میچ میں انہوں نے ایک اننگز میں 68 اور دوسری میں 73 رنز بنائے اور سات وکٹیں حاصل کیں۔ ’ہمیں لارڈز میں جھٹکا لگا لیکن ہم نے اپنے آپ کو جلد ہی متحد کر لیا اور ہم نے وہ کرکٹ کھیلی جو ہم کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم نے اس کھیل میں لطف اٹھایا اور ہم نے جتنا بھی کھیل مثبت انداز میں کھیلا۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||