اوول کرکٹ کی تاریخ کاسنہری باب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان پانچواں اور آخری ٹیسٹ آنے والے جمعرات سے اوول کے تاریخی میدان میں کھیلا جائے گا اور ایشز کی قسمت کا فیصلہ بھی انگلینڈ یا آسٹریلیا کی جیت پر ہو گا۔ اسوقت ایک میچ کے مقابلے میں انگلینڈ کو دومیچوں سے برتری حاصل ہے اور ایشیز ٹرافی اٹھارہ سال بعد حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ اگر جیت نہ سکے تو میچ ڈرا کرنا ہو گا۔ آسٹریلیا کے فتح کی صورت میں ایک بار پھر ایشیز آسٹریلیا کے پاس ہو گی اور انگلینڈ کا خواب ایک خواب ہی رہ جائے گا۔ چار سنسنی خیز ٹیسٹ میچوں کے بعد یقینی طور پر مقابلہ سخت ہوگا۔ میچ کا میدان اوول ایک تاریخی حثیت رکھتا ہے اور انگلینڈ کی سرزمین پر پہلا ٹیسٹ میچ اسی گراونڈ پر 1880 میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا گیا تہا جسے انگلینڈ نے پانچ وکٹوں سے جیت لیا تھا اور انگلینڈ کے ڈبلیو جی گریس نے انگلینڈ کی طرف سے ٹیسٹ میں پہلی بار سنچری بنانے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ اٹھارہ سو بیاسی میں جب انگلینڈ کو سات رن سے آسٹریلیا کے ہاتھوں اسی میدان میں شکست ہوئی اور آسٹریلیا کے فاسٹ بالر فریڈ سپوفرتھ نے چودہ وکٹیں لیکر انگلینڈ کا جلوس نکال دیا تو ایشیز سیریز کا آغاز ہوا۔
اٹھارہ سو چوراسی میں یہی وہ گراونڈ ہے جہاں آسٹریلیا کے بلی مرڈوک نے ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی ڈبل سنچری بنائی اور یہیں انگلینڈ کے فاسٹ بالر فریڈی ٹرومین نے ٹیسٹ میچوں میں تین سو وکٹیں لینے والے تاریخ کے پہلے بالر بنے۔ یوں تو زمبابوے اور بنگلہ دیش کے علاوہ تمام ٹیسٹ ٹیموں نے اس گراونڈ پر ٹیسٹ کھیلا ہے لیکن آسٹریلیا اور انگلینڈ کے مابین میچوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ انیس سو اڑتیس میں جب انگلینڈ نے آسٹریلیا کو ایک اننگز اور پانچ سو اناسی رن سے شکست دی تو انگلینڈ نے سات وکٹوں کے نقصان پر نو سو تین رن بنائے تھے جن میں لین ہٹن نے تین سو چونسٹھ رن بنائے اور جب وہ آؤٹ ہوئے تو ان کی ایک مداح خاتون نے نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ ہٹن کاش آپ تین سو پینسٹھ رن بناتے تاکہ سال کے ہر دن کے لیے ایک رن ہوتا۔ یہی وہ گروانڈ ہے جہاں آسٹریلیا کے مشہور بلے باز ڈان بریڈ مین نے اپنا آخری ٹیسٹ کھیلا اگر وہ چار رن اور بناتے تو ان کے کیریئر کا اوسط یا ٹیسٹ ایورج ہر اننگ میں سو رن ہوتا۔ لیکن جب وہ گروانڈ میں داخل ہوئے تو انہیں اتنا زبردست خراج تحسین ملا کہ جب اپنی آبدیدہ انکھوں سے کھیلنے کے لیے کھڑے ہوئے تو لیگ اسپنر ایرک ہولیز کی دوسری ہی گیند پر بغیر کوئی رن بنائے بولڈ ہو گئے اور پویلین کی طرف واپس جاتے ہوئے بیس ہزار تماشائیوں نے اسی پرجوش طریقے سے انہیں الوادع کہا۔ انیس سو باون میں یہاں انگلینّڈ نے انیس سال بعد ایشیز جیتا اور انیس سو چھپن میں پھر ایک بار آسٹریلیا کو مات دی۔انگلینڈ کے اسپنر جم لیکر نے اس سیریز میں چھالیس وکٹیں لیں اور اسی گروانڈ پر جب آسٹریلیا کی ٹیم سرے کے خلاف کھیلی تو لیکر نے آسٹریلیا کے دس کھلاڑیوں کو ایک اننگز میں آؤٹ کر دیا۔ اس سے پہلے اولڈ ٹریفرڈ کے ٹیسٹ میں لیکر نے میچ میں انیس ووکٹیں حاصل کی تھیں جو ایک عالمی ریکارڈ ہے جسے کوئی کھلاڑی برابر نہیں کر سکا۔ انیس سوچون میں پاکستان کے فاسٹ بالر فضل محمود نے آخری ٹیسٹ میں انگلینڈ کے خلاف بارہ وکٹیں لے کر پاکستان کو پہلی بار فتح سے ہمکنار کیا اور انیس سو چوہہتر میں ظہیر عباس نے دو سو چالیس رن بنا دیے اور انیس سو بانوے میں جاوید میانداد نے دو سو ساٹھ رن بنائے۔ اوول کی تاریخ قدیم ہے اور یہ کرکٹ کی تاریخ کا ایک حصہ ہے سرے کاونٹی کرکٹ کا یہ ہوم گروانڈ ہے اور پہلا کاونٹی میچ یہاں اٹھارہ سو چھالیس میں کینٹ کے خلاف کھیلا گیااور اس پراپرٹی کے مالک پرنس چارلس ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں یہ جنگی قیدیوں کا کیمپ بنا دیا گیا اور اسے دو مرتبہ دشمن نے نشانہ بنایا۔ لیکن اس مرتبہ ایشیز کی جنگ میں انگلینڈ کے کھلاڑی آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کو قیدی تو نہیں بنا سکیں گے بلکے ان سے ایشیز کی جنگ انیس سال بعد جیتنے کی کوشش کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||