ٹریسکوتھک، بائیں ہاتھ کا گراہم گوچ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین اوپنر مارکس ٹریسکوتھک کو ان کی شاندار بیٹنگ اور مستقل مزاجی کے سبب لیفٹ ہینڈڈ گراہم گوچ قرار دیتے ہیں جبکہ بہت سے لوگوں کو ان کی بیٹنگ میں ڈیوڈ گاور کا عکس نظرآتا ہے۔ ٹریسکوتھک کا بین الاقوامی کریئر صرف پانچ سال پر محیط ہے لیکن اس مختصر سے عرصے میں سمرسٹ سے تعلق رکھنے والے اس 29 سالہ جارحانہ بیٹسمین نے ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں میں اپنی موجودگی کا احساس بھرپور انداز میں دلایا ہے۔ چھیاسٹھ ٹیسٹ میچوں میں بارہ اور ایک سے نو ون ڈے میچوں میں دس سنچریاں ٹریسکوتھک کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ پہلے مائیک ایتھرٹن اور مارک بوچر اور اب اینڈریو اسٹراس کے ساتھ انہوں نے انگلینڈ کو اوپننگ کے مسئلے سے آزاد کردیا ہے۔ دوسال قبل جنوبی افریقہ کے خلاف اوول ٹیسٹ میں ان کی ڈبل سنچری نے انگلینڈ کو سیریز برابر کرنے میں مدد دی تھی۔ ویسٹ انڈیز کے دورے میں ناکامی کے باوجود سلیکٹرز کا ان پر اعتماد ختم نہیں ہوا۔ ٹریسکوتھک نے ویسٹ انڈیز کے بولنگ اٹیک کے خلاف ایجبسٹن ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں داغ دیں اور پھر جوہانسبرگ میں ایک سو نوے کی شاندار اننگز کھیل کر انہوں نے انگلینڈ کو سیریز جتوا دی۔ بنگلہ دیش کے کمزور اٹیک کے خلاف پونے چار سو رنز بنانے کے بعد ایشیز کے کڑے امتحان میں بھی وہ پورے اترے اگرچہ سیریز میں ان کی کوئی سنچری شامل نہیں تھی لیکن چار سو سے زائد رنز اور اسٹراس کے ساتھ ان کی قابل اعتماد شراکتیں مائیکل وان کی مسکراہٹ کا ایک بڑا سبب ضرور تھیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||