تیسرا ٹیسٹ، غیرمعمولی اہمیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق اور کوچ باب وولمر کو اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ انگلینڈ کے خلاف منگل کو قذافی اسٹیڈیم میں شروع ہونے والا تیسرا ٹیسٹ ان کے لیے غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ انضمام الحق بحیثیت کپتان ابتک صرف نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب ہوسکے ہیں جبکہ باب وولمر کوچ کے طور پر ابھی تک پاکستان کی پہلی سیریز جیت کے شدت سے منتظر ہیں۔ پاکستان نے دوسال قبل جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز جیتی تھی لیکن وہ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز تھی۔ اس سیریز کے لاہور ٹیسٹ میں پاکستان نے انضمام الحق کے ان فٹ ہونے کے سبب محمد یوسف کی قیادت میں کامیابی حاصل کی تھی تاہم کسی بڑی ٹیم کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر پاکستان کی آخری بڑی جیت میں1997ء ویسٹ انڈیز کے خلاف تھی جس کے بعد اسے آسٹریلیا، زمبابوے، سری لنکا اور انگلینڈ کے خلاف شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ باب وولمر گزشتہ سال جاوید میانداد کی جگہ پاکستانی ٹیم کے کوچ بنے تھے ان کی کوچنگ میں پاکستانی ٹیم نے سری لنکا بھارت اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز برابر کی جبکہ آسٹریلیا کے خلاف تین صفر سے شکست اس کے کھاتے میں درج ہوئی۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے پاس سیریز جیتنے کا اچھا موقع ہے لیکن اس کے لیے کھلاڑیوں کو غیرمعمولی محنت کرنی ہوگی کیونکہ انگلینڈ کی ٹیم حساب بے باق کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انضمام الحق کے مطابق وہ اپنے ہم منصب مائیکل وان کی موجودہ فارم اور فٹنس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ دباؤ انگلش ٹیم پر ڈالنے کی کوشش کریں گے لیکن ساتھ ہی انہیں اپنی پریشانی کا بھی بخوبی علم ہے جس کا سامنا انہیں یونس خان اور شاہد آفریدی کی غیرموجودگی کے سبب کرنا پڑے گا۔یونس خان بھائی کی وفات اور شاہد آفریدی پچ خراب کرنے کی پاداش میں ایک ٹیسٹ اور دو ون ڈے میچوں کی پابندی کے سبب لاہور ٹیسٹ نہیں کھیل سکیں گے۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے ٹیم کا کامبنیشن متاثر ہوا ہے تاہم انہیں توقع ہے کہ حسن رضا اور عاصم کمال اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کرینگے۔ پاکستانی ٹیم میں تیسری تبدیلی محمد سمیع کی جگہ محمد آصف کی صورت میں متوقع ہے۔ محمد آصف نے انگلینڈ کے ِخلاف لاہور کے سہ روزہ میچ میں شاندار بولنگ کرتے ہوئے دس وکٹیں حاصل کی تھیں۔ قذافی اسٹیڈیم کی وکٹ کے بارے میں پاکستانی کپتان کو امید ہے کہ تیسرے دن سے وہ ٹرن لے گی جس پر کنیریا کو مدد ملے گی۔ انضمام الحق کی نظریں ٹیسٹ کرکٹ میں آٹھ ہزار رنز کے سنگ میل پر بھی مرکوز ہیں جس کے لیے انہیں45 رنز درکار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی کوشش ہوگی کہ یہ سنگ میل اسی ٹیسٹ میں عبور کرلیں۔ پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ 23 ٹیسٹ سنچریاں بنانے کے جاوید میانداد کے ریکارڈ کو اپنے نام کرنے کے بعد اب انضمام الحق ان کے سب سے زیادہ8832 رنز کے ریکارڈ کے بھی قریب ہیں۔ انگلینڈ کی ٹیم اپنے تجربہ کار اوپنر اینڈریو اسٹراس کے بغیر میدان میں اترے گی ان کی جگہ کپتان مائیکل وان اننگز کا آغاز نائب کپتان ٹریسکوتھک کے ساتھ کرینگے جبکہ مڈل آرڈر بیٹنگ میں کالنگ ووڈ کی شمولیت متوقع ہے۔ آف اسپنر شان یوڈل کی جگہ سوئنگ بولر جیمز اینڈرسن کو کھلائے جانے کی امید ہے۔ مائیکل وان پر امید ہیں کہ ایشلے جائلز اپنی کمر کی تکلیف پر قابو پاتے ہوئے لاہور ٹیسٹ کھیلنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ جائلز ٹیسٹ سیریز کے بعد وطن واپس جارہے ہیں اور ان کی جگہ ای این بلیک ویل لیں گے۔ خود وان کی بھی ون ڈے سیریز میں شرکت مشکوک ہے۔ | اسی بارے میں فیصل آباد: انگلینڈ نےمیچ بچا لیا24 November, 2005 | کھیل پاکستان نے ملتان ٹیسٹ جیت لیا16 November, 2005 | کھیل پچ خراب کرنے کی سزا21 November, 2005 | کھیل پاکستانی ٹیم میں ایک تبدیلی24 November, 2005 | کھیل سٹراس کی برطانیہ واپسی25 November, 2005 | کھیل یونس کو صدمہ، اگلے ٹیسٹ سے باہر27 November, 2005 | کھیل یونس کو صدمہ، ٹیم کو دھچکا 27 November, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||