لاہور: یوسف، اکمل کی سینچریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے ایک سو اٹھاون رنز کی برتری حاصل کرلی ہے اور اسے کے پانچ کھلاڑی ابھی باقی ہیں۔ لاہور ٹیسٹ کے تیسرے روز کے اختتام پر انگلش بولر سٹیو ہارمیسن نے دعوی کیا تھا کہ پاکستان کے بیٹسمینوں کو جلد آؤٹ کر لیا جائے گا لیکن انگلینڈ کے بولر سارے دن میں صرف ایک وکٹ حاصل کر سکے۔ محمد یوسف اور کامران اکمل کی شاندار سنچریاں پاکستان کو انگلینڈ کے اسکور288 پر158 رنز کی سبقت دلانے میں کامیاب ہوگئیں۔ پاکستان نے کھیل کے اختتام پر پانچ وکٹوں کے نقصان پر446 رنز بنائے تھے۔ محمد یوسف183 اور کامران اکمل115 رنز پر ناقابل شکست تھے۔ کپتان مائیکل وان کی مایوسی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی رہی کہ نائٹ واچ مین شعیب اختر بھی ان کے بولرز سے مرعوب نہ ہوسکے جنہوں نے راولپنڈی ایکسپریس کو تی
پاکستانی بیٹسمینوں کی آنکھوں کی چمک نےنئی گیند کو بھی ماند کردیا۔ کامران اکمل نے محمد یوسف کے ساتھ چھٹی وکٹ کی ناقابل شکست شراکت میں199 رنز کا اضافہ کرکے انگلینڈ کے خلاف 33 سالہ پرانا ریکارڈ توڑدیا جو73-1972ء کے حیدرآباد ٹیسٹ میں مشتاق محمد اور انتخاب عالم نے145 رنز بناکر قائم کیا تھا۔ کامران اکمل نے موہالی ٹیسٹ میں شاندار سنچری کے بعد گیارہ اننگز میں بڑا اسکور نہ کرنے کے جمود کو تین ہندسوں کی ایک اور عمدہ اننگز سے توڑدیا ان کی یہ سنچری 178 گیندوں پرنو ویں چوکے کی مدد سے مکمل ہوئی۔ کامران اکمل پچانوے کے ذاتی سکور پر پلنکٹ کی گیند پر سلپ میں ٹریسکوتھک کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہونے سے بچ گئے۔ تیسرے دن گرنے والی واحد وکٹ پلنکٹ نے شان یوڈل کے کیچ کے ذریعے حاصل کی۔ ایشیز سیریز میں آسٹریلوی بیٹنگ کو بکھیرنے والے ہارمیسن اور فلنٹوف کے حوصلے پاکستانی بیٹسمینوں کے سامنے بکھرے بکھرے نظر آئے ایسا لگتا تھا کہ جیسے ایشز کا بخار اترگیا ہو۔ جمعرات کو چونکہ ایڈز کا عالمی دن منایا جارہا ہے اس لیے کھلاڑیوں نے اسی مناسبت سے اپنی شرٹس پر ربن باندھ رکھے ہیں۔ انضمام الحق حق نے جو کل زخمی ہونے کے باعث میدان سے چلے گئے تھے بیٹنگ کے لیے تیار تھے لیکن انہیں بیٹنگ کا موقع ہی نہ مل سکا۔ دوسرے روز جب میچ ختم ہوا تو پاکستان نے185 رن بنائے تھے اور اس کے4 کھلاڑی آؤٹ ہوئے۔ اس سے پہلے انگلینڈ کی ٹیم نے اپنی پہلی اننگز میں دو سو اٹھاسی رنز بنائے تھے۔ پاکستان کی ٹیم: انضمام الحق( کپتان)، شعیب ملک۔ سلمان بٹ۔ عاصم کمال۔محمد یوسف۔ حسن رضا۔ کامران اکمل۔شعیب اختر۔ محمد سمیع۔ رانا نویدالحسن اور دانش کنیریا۔ انگلینڈ کی ٹیم: مائیکل وان ( کپتان)، مارکس ٹریسکوتھک۔ ای این بیل۔ کیون پیٹرسن۔ پال کالنگ ووڈ۔ اینڈریوفلنٹوف۔ گیرائنٹ جونز۔ سٹیو ہارمیسن۔ میتھیو ہوگرڈ ۔ شان یوڈل اور لیئم پلنکٹ۔ |
اسی بارے میں لاہور ٹیسٹ میں پاکستان کی واپسی30 November, 2005 | کھیل ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی30 November, 2005 | کھیل کراچی ون ڈے پروگرام کے مطابق30 November, 2005 | کھیل چھ دن کے ٹیسٹ میچ کی تجویز30 November, 2005 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||