شعیب اختر، ہنگامہ خیز کریئر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شعیب اختر نے آٹھ سال قبل اپنے کریئر کی ابتدا کی تھی تو انہیں وسیم اکرم اور وقار یونس کی شاندار روایت کو آگے بڑھا نے کی بھرپور صلاحیت رکھنے والا بولر قراردیا گیا تھا لیکن میدان کی کارکردگی سے کہیں زیادہ میدان کے باہر کے تنازعات نے ان کے کریئر کوخاصا ہنگامہ خیز بنادیا۔ طوفانی رفتار اور لمبے رن اپ کے ساتھ بولنگ کرنے والے شعیب اختر کو پہلا دھچکہ اسوقت لگا جب ان کے بولنگ ایکشن کو کرکٹ کے مروجہ قواعد و ضوابط کے منافی قرار دیا گیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو انہیں واپس میدان میں لانے کے لئے تگ ودو کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ پاکستان ٹیم میں واپس آئے لیکن مستقل جگہ انہیں پھر بھی نہ مل سکی۔ اس کی وجہ وہ تنازعات تھے جو شعیب اختر کی ذات سے گاہے بگاہے وابستہ ہوتے رہے۔ شعیب اختر کی فٹنس ہمیشہ سے پاکستانی ٹیم میں ان کی مستقل جگہ کی راہ میں رکاوٹ رہی ہے۔اگر شعیب اختر کے کریئر پر نظرڈالی جائے تو انہوں نے بہت کم سیریز مکمل کھیلی ہیں۔اسی کو بنیاد بناکر کپتان اور کوچ انہیں ٹیم میں رکھنے کے بارے میں پس وپیش سے کام لیتے رہے ہیں اور ان کا موقف یہ ہے کہ انہیں ٹیسٹ کے تمام پانچ دن اور سیریز کے تمام پندرہ دن فٹ رہنے والا شعیب اختر چاہئے۔ یہ صورتحال شعیب اختر کے پرستاروں کے لئے بھی مایوس کن رہی ہے جو انہیں مکمل فٹنس کے ساتھ بیٹسمینوں پر حملہ آور ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ فٹ شعیب اختر کا ایک طوفانی اسپیل میچ کا نقشہ بدل دیتا ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف کولمبو ٹیسٹ میں ان کی غیرمعمولی بولنگ نے پاکستان کی جیت کی بنیاد رکھ دی تھی لیکن بیٹسمینوں کی غیرذمہ داری نے ان کی محنت پر پانی پھیر دیا۔ آسٹریلیا کے دورے میں ان فٹ ہونے کے بعد بھارت کے دورے سے انہون نے دستبرداری اختیار کرلی۔ ویسٹ انڈیز کے دورے میں بھی وہ ٹیم میں شامل نہیں تھے ان دو بڑی سیریز کے بعد شعیب اختر ٹیم میں واپسی کے شدت سے خواہاں ہیں لیکن مبصرین کے خیال میں یہ اتنا آسان نہیں اس کا انحصار شعیب اختر کی سو فیصد فٹنس اور ٹیم منیجمنٹ کے مکمل اطمینان پر ہوگا۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||