عبدالرشید شکور بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شعیب اختر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنا تحریری جواب ایک دن کی تاخیر سے دے دیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ان کی جواب طلبی کی تھی کہ کیا وہ آسٹریلیا میں نائٹ کلب گئے تھے ، کیا میڈیا کے ذریعے منظرعام پر آنے والی وہ تصاویر نائٹ کلب کی ہیں ، آسٹریلیا سے آنے کے بعد تاخیر سے ٹریننگ کے لئے اکیڈمی میں کیوں آئے، کرکٹ بورڈ کے ٹرینر کے بجائے نجی طور پر ڈاکٹر توصیف رزاق کے ساتھ ٹریننگ کیوں شروع کی اور وطن واپس آنے کے بعد بیانات کیوں دیئے؟ شعیب اختر نے تصاویر اور نائٹ کلب سے متعلق الزامات کو بے بنیاد قراردیا ہے جبکہ دیگر سوالوں کی بھی وضاحت کی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب اختر کے معاملے پر تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو فاسٹ بولر کے جواب کے بعد اپنی رپورٹ شہریارخان کو دے دے گی۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شعیب اختر کی واپسی کا انحصار ان کی فٹنس کے ساتھ ساتھ ڈسپلن کے معاملے پر قائم کمیٹی کی رپورٹ پر بھی ہوگا۔ |